الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 190
ضميمه حقيقة الوحى ۱۹۰ الاستفتاء اذا نصر الله المؤمن جعل له جب خدا تعالیٰ مومن کی مدد کرتا ہے تو زمین پر اُس الحاسدين في الارض - کے کئی حاسد مقرر کر دیتا ہے۔ ولا راد لفضله اور اس کے فضل کو کوئی رد نہیں کر سکتا ۔ فالنار موعدهم - پس جہنم اُن کے وعدہ کی جگہ ہے۔ قل الله ثم ذرهم في خوضهم كہہ خدا نے یہ کلام اُتارا ہے پھر ان کو لہو ولعب کے يلعبون - خیالات میں چھوڑ دے۔ واذا قيل لهــم أمــنــوا كما امن اور جب اُن کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ ۔ جیسا کہ الناس قالوا أَنُؤْمِنُ كما امن لوگ ایمان لائے کہتے ہیں کیا ہم بے وقوفوں کی السُّفَهَاءُ - أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ طرح ایمان لائیں خبردار ہو کہ در حقیقت وہی لوگ وَلكِنْ لا يعلمون بے وقوف ہیں مگر اپنی نادانی پر مطلع نہیں ۔ وَإِذَا قِيلَ لهم لا تُفْسِدُوا فِي الارض اور جب اُن کو کہا جائے کہ زمین پر فساد مت کرو قالوا انما نحن مصلحون - کہتے ہیں کہ بلکہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں۔ قل جَاءَ كُم نُورٌ مِّنَ الله کہہ تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے پس اگر مومن فلا تكفروا ان كنتم مؤمنين ہو تو انکار مت کرو۔ ☆ امْ تَسْتَلهم من خرج فهم مِنْ کیا تو ان سے کچھ خراج مانگتا ہے پس وہ اُس چٹی کی وجہ سے ایمان لانے کا بوجھ اُٹھا نہیں سکتے ۔ مَّغْرِمٍ مُّثْقَلُوْنَ - بلاتينهم بِالحَقِّ فهم لِلْحَقِّ بلکہ ہم نے ان کو حق دیا اور وہ حق لینے سے کراہت کارهون ۔ کرتے ہیں۔ تلطف بالناس وترحم عليهم - لوگوں کے ساتھ لطف اور رحم کے ساتھ پیش آ۔ لفظ من ليس في القرآن الكريم من کا لفظ قرآن کریم میں نہیں ہے ہاں الہام میں 66 ولكن جاء لفظ مِنْ في الالهام۔ منه مِنْ “ کا لفظ آیا ہے ۔ منہ