الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 182

ضميمه حقيقة الوحى ۱۸۲ الاستفتاء ومَنْ أَظْلَم مِمَّنِ افترای علَی اور اُس انسان سے زیادہ تر کون ظالم ہے جس نے اللهِ كَذِبًا ۔ خدا پر افترا کیا اور جھوٹ باندھا۔ هو الذي ارسل رسوله بالهدی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ ودين الحق ليظهره علی الدین اپنی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس دین كله لا مبدل لكلماته - کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے۔ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں کوئی ان کو بدل نہیں سکتا۔ يَقُولُونَ انِّي لك هذا إِنْ هذا الا اور لوگ کہیں گے کہ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل قول البشر واعانه علیه قوم ہوا یہ جو الہام کر کے بیان کیا جاتا ہے یہ تو انسان کا اخرون - قول ہے۔ اور دوسروں کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ افتأتون السحر وانتم تبصرون ۔ اے لوگو! کیا تم ایک فریب میں دیدہ و دانستہ پھنستے - تمہیں یہ شخص هيهات هيهات لما تو تو عدون - ہو؟ جو کچھ تمہیں وعدہ دیتا ہے اس کا کا ہونا من هذا الذي هو مهين جاهل كب ممكن ہے ۔ پھر ایسے شخص کا وعدہ جو حقیر او مجنون ۔ اور ذلیل ہے۔ یہ تو جاہل ہے یا دیوانہ ہے جو بے ٹھکانے باتیں کرتا ہے۔ قُل عندى شهادة من الله ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم فهل انتم مُسْلِمُون قبول کرو گے یا نہیں۔ قل عندى شهادة من الله فهل پھر اُن کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس انتم مؤمنون - کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں ۔ ولقد لبثت فيكم عمرًا من قبلہ اور میں پہلے اس سے ایک مدت تک تم میں ہی رہتا افلا تعقلون - تھا کیا تم سمجھتے نہیں۔