الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 180

ضميمه حقيقة الوحي ۱۸۰ الاستفتاء بعد ما كانوا كشجرة مملوة من بعد اس کے کہ وہ ایک پھلوں سے لدے ہوئے درخت الثمرات، وبـعـد أيــام كــانـت کی طرح تھے ، اور ایسے زمانے کے بعد جو بھی ہوئی كالعذارى المتبرجات۔ فوجدتُ کنواریوں کی طرح تھا۔ میں نے ان کی داستانوں کو ۷۹ قصصهم محل عبرة تسيل بذكرها ايسا كحل عبرت پایا جس کے ذکر سے آنسو بہنے لگتے ہیں العبرات، ولا ترقأ عند تصوّرها اور ان کا تصور کر کے بہتے آنسو تھمنے کا نام نہیں الدموع الجاريات۔ ولما رأيتُ ما لیتے ۔ اور جب میں نے یہ حالات دیکھے تو مجھ پر رقت رأيت، أخذتني الرقة فبكيت طاری ہوگئی اور میں روپڑا اور میں نے ا۔ انے اپنے نفس اپ وناجيت نفسي بأن هذه الدنيا سر گوشی کی کہ یہ دنیا محض ایک بے وفا ہے جس کا انجام تلخ ليست إلا كغدار، وليس مالها إلا اہے یہ ناکامی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ اور اس دنیا کے گھر نے مرارة خيبة و تبار ۔ وأرهقتني دار مجھے اپنی تنگی سے انتہائی تکلیف میں ڈالا۔ اور میرے دل الدنيا بضيقها، وأُلقي في قلبي أن میں یہ ڈالا گیا کہ میں اس کی چمک دمک کو نا پسند کروں ۔ أعاف بريقها، فصرف الله عنى حبّ پس اللہ نے دنیا کی محبت اور اس کی زینت کے دیدار اور الدنيا ورؤية زينتها، والتمايل على اس کے درختوں اور پھلوں پر جھک جانے کو مجھ سے دور شجرتها وثمرتها۔ وكنت أحب کر دیا۔ اور میں گمنامی کو پسند کرتا اور گوشئہ خلوت کو ترجیح الخمول، وأؤثر زاوية الاختفاء ، دیتا تھا۔ اور میں مجالس اور معجب و ریاء کے مواقع سے دور وأفرّ من المجالس ومواقع العُجب والرياء۔ فأخرجني الله من حجرتي، بھاگتا تھا لیکن اللہ نے مجھے میرے حجرے سے نکالا اور مجھے و عرفني في الناس، وأنا كاره من لوگوں میں شہرت دی حالانکہ میں اپنی شہرت کو نا پسند کرتا شهرتی، وجعلني خليفة آخر تھا۔ اور اس نے مجھے آخری زمانے کا خلیفہ اور اس وقت الزمان، وإمام هذا الأوان، وكلمنى كا امام بنایا ۔اور وہ بہت سے کلمات کے ساتھ مجھ سے بكلمات نذكر شيئا منها في هذا ہمکلام ہوا جن میں سے کچھ ہم اس جگہ ذکر کرتے ہیں المقام، ونؤمن بها كما نؤمن بكتب اور ہم ان پر ویسا ہی ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ ہم خالق الله خالق الأنام۔ وهي هذه کا ئنات اللہ کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔