الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 177

ضمیمه حقيقة الوحي 122 الاستفتاء ثم اعلموا أن مسكنى قرية سُمّيت پھر تم جان لو کہ میرا مسکن اسلام پور نامی ایک بستی ببلدة الإسلام، ثم اشتهر باسم ہے جو آج کل قادیان کے نام سے مشہور ہے۔یہ قاديان" في هذه الأيام۔وهي واقعة بستی پنجاب میں دریائے راوی اور دریائے بیاس في الفنجاب بین النهرین "الراوی" کے درمیان واقع ہے۔جو پنجاب کے صدر مقام و"البياس"، إلى جانب المشرق لاہور کے شمال مشرق کی جانب واقع ہے۔اور مائلا إلى الشمال من "لاهور" الذى هو صدر الحكومة ومركز البلاد میں نے اپنے آباء و اجداد کی سوانح حیات کی الـفـنـجـابية۔وإني قرأتُ في كتب كتابوں میں پڑھا اور اپنے والد سے سنا ہے کہ سوانح آبائی و سمعت من أبى أن میرے آباء واجداد مغلوں کی نسل سے تھے۔لیکن آبائي كانوا من الجرثومة المُغلية۔اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ وہ ولكن الله أوحى إلى أنهم كانوا من فارسى النسل تھے۔اقوام ترکی میں سے نہیں بنی فارس لا من الأقوام التركية۔تھے۔اور اس کے ساتھ ہی میرے رب نے مجھے یہ ومع ذالك أخبرني ربّي بأنّ بعض بھی بتایا ہے کہ میری بعض نانیاں بنی فاطمہ اور اہل أمهاتى كُنَّ من بنى الفاطمة، ومن بیت نبوی میں سے تھیں۔اور اللہ نے کمال حکمت و أهل بيت النبوة، والله جمع فيهم نسل إسحاق وإسماعيل من مصلحت سے (میرے اجداد میں ) حضرت اسحاق كمال الحكمة والمصلحة۔اور حضرت اسماعیل کی نسل کو جمع کر دیا۔وسمعتُ من أبى وقرأت في بعض اور میں نے اپنے والد صاحب سے سنا ہے اور سوانحهم أنهم كانوا في بدء أمرهم اپنے ان بزرگوں کے بعض سوانح میں یہ پڑھا ہے يسكنون في بلدة سمر قند، قبل کہ وہ ہندوستان کی طرف نقل مکانی سے پہلے (۷۸) أن يرحلوا إلى الهند، وكانوا من سمرقند میں بودو باش رکھتے تھے۔اور وہ اس ملک أمراء تلك الأرض وولاتها، کے امراء اور والیان حکومت میں سے تھے اور ملت ومن أنصار الملّة وحماتها۔کے انصار اور اس کے حامیوں میں سے تھے۔