الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 153
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۵۳ الاستفتاء إن الله لا يخاف عقبی اور یقینا اللہ کو افترا کرنے والوں کے انجام کی کچھ المتقولين، ويهزّ لهم حسامه، پرواہ نہیں۔اور وہ اپنی تلوار ان کے لئے سونتا ہے فيجعلهم من الممزقين۔اور انہیں پارہ پارہ کر دیتا ہے۔ولما اقترب يوم هلاكه دعوته اور جب اس کی ہلاکت کا دن قریب آگیا تو للمباهلة، وكتبتُ إليه أن ميں نے اس کو مباہلہ کے لئے بلایا اور اسے لکھا کہ دعواك باطل ولستَ إِلَّا كَذَابًا تیرا دعوى باطل ہے اور تو اس حقیر دنیا کے مردار مفتريا لجيفة الدنيا الدنية کی خاطر محض کذاب اور مفتری ہے اور عیسی وليس عيسى إلا نبيًّا، ولستَ إِلَّا صرف ایک نبی ہے اور تو محض خدا تعالیٰ کی طرف متقوّلا، ومن العامة والفرق جھوٹا قول منسوب کرنے والا ، مفتری اور معمولی الضالة المضلة۔فاخشَ الذى آدمی اور خود گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرقے سے يرى كذبك، وإني أدعوك ہے۔پس اس ذات باری تعالیٰ سے ڈر جو تیرے إلى الإسلام والدين الحق والتوبة جھوٹ کو دیکھ رہا ہے۔اور میں تجھے اسلام اور دین (۶۴) إلى الله ذى الجبروت والعزة حق کی طرف اور جبروت اور عزت والے خدا کی فإن توليت وأغرضتَ عن هذه طرف تو بہ کرنے کے لئے دعوت دیتا ہوں۔اگر الدعوة، فتعال نباهل ونجعل لعنة تو اس دعوت سے پیٹھ پھیرتا اور منہ موڑتا ہے تو الله على الذي ترك الحق، آؤ ہم مباہلہ کریں اور حق ترک کرنے والے اور وادعى الرسالة والنبوة على از راه افتراء رسالت اور نبوت کا دعوی کرنے والے طريق الفرية۔وإن الله يفتح بيني پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔اور اس طرح اللہ میرے و بینک، ویهلک الكاذب فی اور تیرے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔اور صادق زمن حياة الصادق، ليعلم الناس کے عرصہ حیات میں کا ذب کو ہلاک کر دے گا تا کہ مَنْ صدق و مَن كذب، و لينقطع لوگ یہ جان لیں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا النزاع زاع بعد هذه الفيصلة اورتا اس فیصلہ کے بعد نزاع ختم ہو جائے۔