الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 152

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۵۲ الاستفتاء ولما بلغت دولته منتهاها، اور جب اس کی دولت اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو وہ اپنے تبع نفسه الأمارة ومازگاها نفس امارہ کا مطیع ہو گیا اور اس نے اسے پاک نہ وادعى الرسالة والنبوّة من کیا۔اور اس نے شیطان کے بہکانے سے نبوت إغواء الشيطان، وما تحامى عن اور رسالت کا دعوی کر دیا۔اور افتراء ، جھوٹ اور الافتراء والكذب والبهتان۔وظن بہتان سے اجتناب نہ کیا۔اور اس نے یہ خیال کر لیا أنه أمر لا يُسأل عنه، ويُرجى کہ یہ ایسی بات ہے جسکے بارہ میں اس سے باز پرس حياته في التنعم والرفاهة، ويزيد نہیں ہو گی۔اور وہ اپنی زندگی ناز و نعم اور آسودگی في العظمة والنباهة، بل سلک میں گزارتا رہے گا اور وہ عظمت و شرف میں بڑھتا معه طريق الكبر والنخوة، وما چلا جائے گا۔بلکہ اس کے ساتھ وہ کبر ونخوت کی راہ خاف عذاب حضرة العزّة۔ولا پر بھی چل پڑا اور رب العزت کے عذاب سے نہ شك أن المفترى يؤخذ في مآل ڈرا۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مفتری آخر کار پکڑا أمره ويُمنع من الصعود جاتا ہے اور اسے ترقی سے روک دیا جاتا ہے۔اور وتفترسه غيرة الله كالأسود اللہ کی غیرت اسے شیروں کی طرح چیر پھاڑ دیتی ویـری یــوم الـهـلاک والدمار ہے۔اور وہ ہلاکت کا دن اور موعود تباہی کو دیکھ الموعود فی کتاب الله العزيز لیتا ہے۔اللہ غالب اور بہت پیار کرنے والے کی الودود۔إن الذين يفترون على كتاب ( قرآن کریم ) میں ہے کہ ” وہ لوگ جو الله ويتقولون، لا يعيشون إِلَّا الله پر افتراء کرتے ہیں اور جھوٹ باندھتے ہیں وہ قليلا ثم يؤخذون، وتتبعهم تھوڑا ہی عرصہ زندہ رہتے ہیں اور پھر وہ پکڑے جاتے لعنة الله في هذه وفي الآخرة ہیں اور اللہ کی لعنت اس دنیا میں بھی اور آخرت میں ويذوقون الهوان والخزى ولا بھی ان کا پیچھا کرتی ہے اور وہ ذلت اور رسوائی کا مزا يُكرمون۔ألم يبلغک ما کان چکھتے ہیں اور ان کی عزت نہیں کی جاتی۔کیا تجھے | مآل المفترين فى الأولين؟ پہلے زمانے کے مفتریوں کے انجام کی خبر نہیں پہنچی ؟