الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 151

ضمیمه حقيقة الوحي ۶۳ ۱۵۱ الاستفتاء وكان هو عبد الدنيا لا كَحُر حالانکہ وہ دنیا کا غلام تھا نہ کہ آزاد۔اور وہ ایسا سیپ وكصدف بلا دُر، ومع ذالک تھا جس میں موتی نہ ہو۔اور اس کے ساتھ ساتھ وہ كان شيطان زمانه، وقرين شيطانه، اپنے زمانے کا شیطان اور اپنے شیطان کا ساتھی ولكن الله مهله إلى وقتِ دعوته تھا۔مگر اللہ نے اسے اس وقت تک مہلت دی للمباهلة، ودعوتُ عليه في حضرة جب تک کہ میں نے اسے مباہلہ کیلئے بلایا اور اس العزة۔وكنتُ أجد فيه ريح کے خلاف رب العزت کی بارگاہ میں دعا کی۔اور الشيطان، ورأيت أنه صریح میں اس (ڈوئی) کے وجود میں شیطان کی بد بو پاتا الطاغوت و عدوّ عباد الرحمن تھا۔اور میں نے اسے طاغوت کا پچھاڑا ہوا اور نجس الأرض ونجس أنفاس أهلها رحمان خدا کے بندوں کا دشمن پایا۔اس نے زمین کو من أنواع خباثة الهذيان، وما رأيتُ ناپاک کیا اور اہل زمین کی سانسوں کو اپنی طرح طرح كمثله عميتًا ولا عِفريتا في هذا کی خبیث نہ بکواس سے نجس کر دیا۔میں نے اس الزمان۔كان مجنون التثليث زمانے میں اس جیسا کوئی شاطر اور سرکش شیطان وعدو التوحيد، ومصرا على الدین نہیں دیکھا۔وہ تثلیث کا دیوانہ اور توحید کا دشمن اور الخبيث، وكان ينظر مضراته خبیث دین پر مصر تھا۔اور وہ اس دین کی برائیوں کو كحسنة، ومعراته كأسباب راحة نیکی کی طرح اور اس کے عیوب کو اسباب راحت واجتمع الجهال عليه من الأمراء کی مانند دیکھتا تھا۔اور امراء اور دولت مندوں میں وأهل الثروة، ونصروه بمال لا سے جاہل اسکے گرد جمع ہو گئے تھے۔اور انہوں نے يوجد إلا في خزائن الملوک اسکی ایسے مال سے مدد کی جو صرف بادشاہوں اور ارباب سلطنت کے خزانوں میں پایا جاتا ہے۔وأرباب السلطنة۔وكان يساق إليه قناطير الدولة، اور اس کے پاس ڈھیروں ڈھیر دولت لائی جاتی حتى قيل إنه ملک و یعیش یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ وہ بادشاہ ہے جو كالملوك بالشأن والشوكة۔بادشاہوں کی طرح شان و شوکت سے زندگی بسر کرتا ہے