الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 150
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۵۰ الاستفتاء وكان يدعى مقامات فائقة ومراتب اور وہ بلند مقامات اور مراتب عالیہ کا دعویدار تھا۔عالية، ويحسب نفسه من كل نفس اور اپنے آپ کو ہر شخص سے زیادہ بزرگ و برتر أشرف وأعظم۔وكان يزيد يومًا سمجھتا تھا اور وہ روز بروز شہرت اور مال اور ماننے فيوما في المال والشهرة والتابعين والوں کی تعداد میں بڑھ رہا تھا اور وہ گداگروں کی و كان يعيش كالملوک بعد ما كان طرح ہونے کے بعد بادشاہوں جیسی زندگی بسر كالشحاذين۔فالناظر من المسلمین کرنے لگا۔اس کے افترا اور خدا پر جھوٹ گھڑنے ترقياته، مع افترائه وتقوله، ان کے باوجود اس کی ترقیوں کو مسلمانوں میں سے كان ضعيفًا۔۔ضل وحار، وإن كان دیکھنے والا اگر ضعیف (العقیدہ) ہوتا تو وہ گمراہ ہو عَرِيفًا لم يأمن العثار۔وذالك أنه جاتا اور نقصان اٹھاتا ، اور اگر وہ عالم ہوتا تو بھی كان عدوّ الإسلام، وكان يسبّ لغزش سے محفوظ نہ رہتا۔اور یہ اس لئے کہ وہ (ڈوئی) نبينا خير الأنام، ثمّ مع ذالك اسلام کا دشمن تھا اور وہ ہمارے نبی خیر الانام ہے کو صعد في الشهرة والتموّل إلى في أعلى المقام، وكان يقول إنى المؤمنين۔وكان من الذين يقولون گالیاں دیا کرتا تھا۔بایں ہمہ وہ شہرت اور تمول میں اعلیٰ مقام تک ترقی کرتا رہا۔اور وہ یہ کہتا تھا کہ میں سأقتل كلّ من كان من المسلمين عنقریب ہر مسلمان کو قتل کروں گا اور کسی موحد مومن ولا أترك نفسا من الموحدين کو نہیں چھوڑوں گا۔اور وہ ( ڈوئی ) ایسے لوگوں میں مالايفعلون، وعلا في الأرض سے تھا جو کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔اور اس نے كفرعون ونسى المنون۔وكان زمین میں فرعون کی طرح سرکشی کی اور موت کو يجعل النهار لنهب أموال الناس بھول گیا۔اس نے دن کولوگوں کے مال لوٹنے اور والليل للكأس، واجتمع إليه جهال رات کو مے نوشی کے لئے مختص کر رکھا تھا۔جاہل عیسائی اليسوعيين، وسفهاء المسيحيين، اور نا سمجھ مسیحی اس کے گرد جمع ہو گئے وہ ضلالت کے فما زالوا يتعاطون أقداح الضلالة، جام لنڈھاتے رہے اور اپنی جہالت کی وجہ سے ويصدقون من جهلهم دعوى الرسالة اس کے دعوئی رسالت کی تصدیق کرتے رہے