الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 147

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۴۷ الاستفتاء ووالله لا أدرى لم أعرضوا اور اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ ان کھلے کھلے نشانوں عنى مع هذه الآيات البينات، وقد کے ہوتے ہوئے انہوں نے مجھ سے کیوں منہ موڑ أتم الله حجته عليهم وعلى كلّ لیا۔جبکہ اللہ نے ان پر اور اندھیروں میں پڑے ہوئے من كان في الظلمات۔ولما راعنى ہر شخص پر اپنی حجت تمام کر دی تھی۔اور جب ان کی منهم ما يروع الوحيد، ادرکنی طرف سے مجھے وہ خوف لاحق ہوا جوا کیلے شخص کو ڈراتا عون ربــي و كـل يـوم زيد۔وما ہے تو میرے رب کی مدد مجھے آ پہنچی اور وہ روز بروز زلت أنـصـر وأؤيد، حتى تمت بڑھتی چلی گئی۔اور یہ نصرت و تائید اتمام حجت ہونے الحجة، وتواترت النصرة، تک مجھے مسلسل دی جاتی رہی۔اور تواتر سے یہ نصرت وبلغت الآيات إلى حد لا أستطيع أن أحصيها، ولكني رأيت أن أكتب آية منها في آخر هذه الرسالة، لعل الله ينفع بها أحدًا من الطبايع السعيدة، ويعلم الناس جاری رہی۔اور یہ نشانات اس حد تک جا پہنچے کہ جن کے شمار کی مجھ میں طاقت نہیں تھی لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ ان نشانوں میں سے ایک نشان اس رسالے کے آخر میں لکھ دوں تا کہ شاید اللہ اس أن نصرة الله قد أحاطت مشارق رسالے کے ذریعہ کسی سعید فطرت کو نفع پہنچا دے اور الأرض ومغاربها، و شاعت لوگ جان جائیں کہ اللہ کی نصرت زمین کے مشارق تغلغلها في أخيار العباد اور مغارب کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔اور اس وعقاربها، حتى بلغت أشعة کا غلغہ (شہرت ) نیک بندوں اور بچھو فطرت لوگوں هذه الآيات إلى بلاد أمريكة التي میں اتنا عام ہے کہ ان نشانوں کی شعاعیں ممالک هي أبعد البلاد۔امریکہ تک جو تمام ملکوں سے دور ہے پہنچیں۔وكلّ ما أوحى الله إلى من الآيات اور روشن نشانوں اور عظیم براہین پر مشتمل جو وحی بھی المنيرة، والبراهين الكبيرة، إنها ليست اللہ نے مجھے کی وہ میرے لئے نہیں بلکہ اسلام کی تصدیق لى بل لتصديق الإسلام، وما أنا إلَّا أحد کے لئے ہے۔اور میں تو صرف خدام میں سے ایک من الخدام۔وأعجبنى حال المنكرين خادم ہوں۔منکروں کی حالت میرے لئے تعجب خیز ہے۔