الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 138
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۳۸ الاستفتاء وعميت عینکم فلاتری فتن اور تمہاری آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں۔پس وہ دشمنوں کے فتنوں کو نہیں دیکھتیں۔اور تم میرا نام الأعداء ، وتسموننى دجّالا ولا دجال رکھتے ہو اور تم بصیرت سے کام نہیں لیتے۔تبصرون۔وتفتون بأني كافر بل تم فتوی دیتے ہو کہ میں کافر بلکہ ہر اس شخص سے أكفر من كلّ مَنْ كفر بالأنبياء۔بڑا کا فرہوں جس نے انبیاء کا انکار کیا۔فمرحبا بكم بهذا الإفتاء۔واہ رے تمہارا یہ فتویٰ ! سب سے تعجب خیز امر والـعـجـب كـل الـعـجـب أن الذين ہے کہ اہل صلیب اور مشرک جو دین کی بیخ کنی کرنا يريدون أن يجيحوا الدين من أهل چاہتے ہیں وہ تمہارے نزدیک تو دجال نہیں اور الصلبان والمشركين ليسوا عند کم میں دجال ہوں بلکہ سب سے بڑا مفسد ہوں۔پس دجالين، وأنــا دجـال بـل أكبـر ہم صرف اللہ رب العالمین کی جناب میں فریاد المفسدين! فلا نشكو إلا إلى الله ۵۶) رب العالمين۔ولما صرت عندكم کرتے ہیں۔اور پھر جب میں تمہارے نزدیک کا فرٹھہرا تو پھر یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ کافروں كافرًا۔۔كيف يُرجى أن ينفعكم موعظة من الكفار؟ ولكني أردت أن کي نصیحت تمہیں فائدہ دے۔لیکن میں نے چاہا کہ کی أذكر ما أُوذيت في الله فلذالک اللہ کی راہ میں دی گئی ایڈا کا ذکر کروں لہذا ہمارا یہ أفضى بنا الكلام إلى هذه الأذكار۔سلسلہ کلام ان اذکار کی طرف چل نکلا۔رحمكم الله۔۔ما لكم لا اللہ تم پر رحم کرے ! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ظلم اور تتركون ظلمًا وعدوانا، ولا زيادتى ترک نہیں کرتے۔اور نہ ہی تم علیم ، جزا سزا تخافون عـلـيـمـا ديانا؟ أيُّها کے مالک خدا سے ڈرتے ہو۔اے لوگو! ہم اللہ کی الناس۔۔جئنا من الله على ميقاته، جانب سے اس کے مقرر کردہ وقت پر آئے ہیں اور ونطقنابـإنـطـاقـه، نبلغ إليكم اس کے بلانے سے ہم بولتے ہیں۔ہم تمہیں پیغام الدعوة، وتنـالـنـا عنكم اللعنة! حق پہنچاتے ہیں لیکن تمہاری طرف سے ہمیں ما أدرى ما هذه الدناءة؟ لعنت ملتی ہے۔میں نہیں جانتا کہ یہ کیا کمینگی۔ہے