الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 137
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۳۷ الاستفتاء ويرة إليكم ما زال؟ وإنّي أشهد اور جو زائل ہو چکا ہے وہ اسے دوبارہ تمہارے الله على ما في قلبي، ووالله إنى پاس لوٹائے۔اور میں اللہ کو اس چیز پر گواہ بنا تا ہوں منه، ولست فـعـلـت أمـرا مـن جو میرے دل میں ہے۔اللہ کی قسم! میں اسی کی تزويرى، وقد ظلمتم إذ عمدتم طرف سے ہوں اور میں نے کوئی کام اپنی فریب کاری إلى تكفيرى وتحقیری، و ما نظرتم سے نہیں کیا۔اور جب تم نے ارادہ میری تکفیر اور إلى ما صُبَّ على الإسلام في هذه تحقیر کی تو تم نے ظلم کیا۔تم نے ان مصائب پر الأيام۔فـنبـکی علیکم بدموع بھی نگاہ نہ کی جو ان دنوں میں اسلام پر ڈھائے جارية، وعبرات متحدّرة، كما گئے۔سو ہم جاری اشکوں اور بہتے آنسوؤں کے تضحكون علينا وتستهزؤون۔ما ساتھ تم پر ویسا ہی روتے ہیں جیسا تم ہم پر ہنستے اور لكم لا تفكرون في أنفسكم ولا استہزاء کرتے ہو۔تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خود اپنے تنظرون في ضعف الإسلام؟ أما نفسوں کے متعلق غور وفکر نہیں کرتے اور نہ اسلام شبعتم من الدجاجلة، وتتمنون کے ضعف پر نگاہ ڈالتے ہو۔کیا تمہارا دجالوں سے دجالا آخر في هذا الوقت المخوفة جی نہیں بھرا اور اس خوفناک وقت اور منذر زمانے وفي هذه الأيام المنذرة؟ وقد میں ایک اور دجال کی تمنا کرتے ہو۔حالانکہ میں جنتكم على رأس المائة، وعند تمہارے پاس صدی کے سر پر اور ضرورت حقہ الضرورة الحقة، وشهد علی کے وقت آیا ہوں۔اور کسوف و خسوف ، زلزلوں اور صدقى الكسوف والخسوف طاعون نے میری سچائی پر گواہی دی۔پس مجھے والزلازل والطاعون۔فأعجبني أنكم تعجب ہوتا ہے کہ تم نشانات کو دیکھتے ہو اس کے ترون الآيات ثم لا تزول باوجود بدظنیاں دور نہیں ہوتیں۔اے عالمو ! کیا الظنون أهذه فراستكم أيها یہی تمہاری فراست ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ الـعـالـمـون؟ بل حال بینکم و بین تمہارے اور تمہارے تقومی کے درمیان وہ تکبر تقواكم كبر كنتم تخفونه وتكتمون حائل ہو گیا ہے جسے تم چھپاتے اور مخفی رکھتے ہو