الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 136

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۳۶ الاستفتاء۔وكادوا أن يرموا سهامهم إلى اور قریب ہے کہ وہ اپنے تیر آسمان کی طرف السماء۔ووالله لا قبل لكم بهم، پھینکیں۔اور اللہ کی قسم اتم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔وإن أنتم عندهم إلا كالهباء اور تم ان کے نزدیک محض ایک ذرہ ہو۔اب بتاؤ فقولوا أَغْضَبُ عليكم أو لا کیا مجھے تم سے ناراض ہونا چاہیے یا نہیں۔تم اس وقت أغضب؟ لم تنامون في هذا کیوں سورہے ہو؟ کیا تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا الأوان؟ أرضيتم بالحیوۃ الدنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو جس کے باعث تم مد ہوش من الآخرة، فانّا قلتم إلى الأرض كى طرح بوجھل بن کر زمین کی طرف جھکے جاتے کی كالسكران؟ وأي شيءٍ أنا مكم، ہو۔اور کس چیز نے تمہیں سلا دیا ہے اور تم گھاٹے کا وقد صرتم غرض الخُسران؟ ہدف بن گئے ہو۔اور اے جوانو! تمہارے لئے | وأى طاقة بقيت لكم يا فتيان؟ کون سی طاقت باقی رہ گئی ہے۔اللہ کی قسم ! ہمارے ووالله ما بقى إلا ربنا المنان۔فلا ربّ منان کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔میں نہیں أدرى ما صنعتم وما تصنعون جانتا کہ تم نے کیا کیا اور آئندہ اسباب سے تم کیا بالأسباب۔وکیف ینصرکم کر لو گے۔اور تمہاری عقل جو محض ایک مکھی کی طرح عقلكم الذي ليس إلا كالذباب ؟ ہے، تمہاری کیا مدد کرے گی۔اور ان کپڑوں کے وأى زينة تُظهرون بهذه الثياب ؟ ساتھ تم کس زینت کو ظاہر کر رہے ہو۔اور جب میں وَلمّا قُمتُ فيكم وقلتُ إنّى من تمہارے درمیان کھڑا ہوا اور میں نے کہا کہ میں الله الكريم اشتعلتم غضبا خدائے کریم کی طرف سے ہوں تو تم غیظ و غضب وسخطًا، وقلتم رجل افتری سے مشتعل ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ شخص مفتری وحسبتموني كالشیطان الرجیم ہے اور مجھے مردود شیطان کی طرح خیال کرنے وما نظرتم إلى الوقت۔۔هل لگے۔اور تم نے وقت پر نظر نہ ڈالی کہ کیا یہ الوقت يقتضى دجّالًا يُشيع وقت ایسے دجال کا تقاضا کرتا ہے جو گمراہی الضلال، أو مصلحًا یحیی الدین پھیلائے یا ایسے مصلح کا جو احیائے دین کرے