الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 106
ضميمه حقيقة الوحي ١٠٦ الاستفتاء ثم مع فرض هذا المعنى يكذب تو پھر بھی یہ آیت حضرت عیسی کے زمین پر نزول هذه الآية نزول عيسى إلى الغبراء ، فرمانے کو جھٹلاتی ہے اور دشمنوں کا مقصد پورا ولا يحصل مقصود الأعداء ، بل نہیں ہوتا بلکہ عدم نزول کا معاملہ جوں کا توں باقی يبقى أمر عدم النزول على حاله كما رہتا ہے۔ جیسا کہ صاحبانِ عقل سے مخفی نہیں۔ لا يخفى على العقلاء ۔ فإن عيسى کیونکہ حضرت عیسی ان الفاظ میں يـــــوم يجيب بهذا الجواب يوم الحساب الحساب کو جواب دیں گے ۔ یعنی آپ یعنى يقول: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي في فلما تو فیتنی اُس دن کہیں گے جب مخلوق اٹھائی يوم يبعث الخلق ويحضرون، جائے گی اور وہ حاضر کئے جائیں گے ۔ جیسا کہ كما تقرؤون في القرآن أيها تم قرآن پاک میں پڑھتے ہو۔ اسے عقلمندو! مسیح العاقلون۔ وخلاصة جوابه أنه کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کہیں گے کہ میں يقول إني تركت أمتى على التوحيد والإيمان بالله الغيور، ثم فارقتهم إلى يوم القيامة وما رجعت إلى الدنيا إلى يوم البعث والنشور ، فلذالك لا أعلم ما نے اپنی امت کو توحید اور غیور خدا پر ایمان لانے کی حالت میں چھوڑا تھا۔ پھر میں ان سے روز قیامت تک جدا رہا اور حشر نشر کے دن تک دنیا کی طرف واپس نہیں گیا۔ اس لیے میں نہیں جانتا کہ انھوں نے میرے بعد کیسے کیسے شرک اور فسق و فجور کا صنعوا بعدى من الشرك والفجور، ارتکاب کیا۔ اور میں قابل ملامت نہیں ہوں۔ اگر ولست من الملومين۔ فلو كان رجوعه إلى الدنيا أمرًا حقًا قبل قیامت سے پہلے دنیا کی طرف آپ کا واپس يوم القيامة فيلزم منه أنه يكذب آنا یقینی امر ہوتا تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ كذبا شنيعا عند سؤال حضرة رب العزت کے سوال کرنے پر آپ (عیسی ) فتبیح العزة۔ وهذا باطل بالبداهة۔ فالنزول جھوٹ بولیں گے اور یہ بالبداہت باطل ہے۔ باطل من غير الشك والشبهة لهذا بلا شک و شبہ ( آپ کا ) نزول بھی باطل ہے۔