الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 106

۴۴ ضمیمه حقيقة الوحي 1+4 الاستفتاء ثم مع فرض هذا المعنى يكذب تو پھر بھی یہ آیت حضرت عیسی کے زمین پر نزول هذه الآية نزول عيسى إلى الغبراء ، فرمانے کو جھٹلاتی ہے اور دشمنوں کا مقصد پورا ولا يحصل مقصود الأعداء ، بل نہیں ہوتا بلکہ عدم نزول کا معاملہ جوں کا توں باقی يبقى أمر عدم النزول على حاله كما رہتا ہے۔جیسا کہ صاحبانِ عقل سے مخفی نہیں۔لا يخفى على العقلاء۔فإن عيسى کیونکہ حضرت عیسی ان الفاظ میں یوم يجيب بهذا الجواب يوم الحساب الحساب کو جواب دیں گے۔یعنی آپ یعنى يقول: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي في فلما تو فیتنی اُس دن کہیں گے جب مخلوق اٹھائی يوم يبعث الخلق ويحضرون جائے گی اور وہ حاضر کئے جائیں گے۔جیسا کہ كما تقرؤون في القرآن أيها تم قرآن پاک میں پڑھتے ہو۔اے عظمند و مسیح العاقلون۔وخلاصة جوابه أنه کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کہیں گے کہ میں يقول إنــى تـركـتُ أمتـى علـى نے اپنی امت کو تو حید اور غیور خدا پر ایمان لانے کی التوحيد والإيمان بالله الغيور، حالت میں چھوڑا تھا۔پھر میں ان سے روزِ قیامت ثم فارقتهم إلى يوم القيامة وما تک جدا رہا اور حشر نشر کے دن تک دنیا کی طرف رجعت إلى الدنيا إلى يوم البعث واپس نہیں گیا۔اس لیے میں نہیں جانتا کہ انھوں والنشور، فلذالك لا أعلم ما نے میرے بعد کیسے کیسے شرک اور فسق و فجور کا صنعوا بعدى من الشرك والفجور، ارتکاب کیا۔اور میں قابل ملامت نہیں ہوں۔اگر ولست من الملومين۔فلو كان رجوعه إلى الدنيا أمرًا حقًّا قبل قیامت سے پہلے دنیا کی طرف آپ کا واپس يــوم القيامة فيلزم منه أنه يكذب آنا یقینی امر ہوتا تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ كذبًا شنيعا عند سؤال حضرة رب العزت کے سوال کرنے پر آپ (عیسی ) فتیح العزة۔وهذا باطل بالبداهة۔فالنزول | جھوٹ بولیں گے اور یہ بالبداہت باطل ہے۔باطل من غير الشك والشبهة۔لہذا بلا شک وشبہ ( آپ کا) نزول بھی باطل ہے۔1