الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 105

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۰۵ الاستفتاء فلا تفكرون فی قول الله ولا پس پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے اس قول پر غور وفکر نہیں تتوجهون۔وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ اَ اللہ کرتے اور نہ ہی اس کی طرف توجہ کرتے ہو۔کیا تم زیادہ أو تقولون ما لا تعلمون؟ جانتے ہو یا اللہ ؟ یاتم وہ کچھ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ثم اعلموا أن حق اللفظ الموضوع پھر تم جان لو کہ کسی معنی کیلئے وضع کئے گئے لفظ کا یہ لمعنى أن يوجد المعنى الموضوع حق ہے کہ اس کے تمام افراد میں بغیر تخصیص و تعیین له في جمع أفراده من غير تخصیص کے وضعی معنی پائے جائیں۔لیکن تم توفی کے لئے وہ وتعيين، ولكنكم تخصصون عيسى اپنے وضع کردہ معنی میں صرف عیسی کو مخصوص کرتے في المعنى الموضوع للتوفّى عندكم، ہو اور کہتے ہو کہ تمام دنیا جہان میں اس معنی میں وتقولون لا شریک له فی ذالک اس کا کوئی شریک نہیں۔گویا ( توفی کا یہ معنی صرف المعنى في العالمين، كأن هذا المعنى ابن مریم کے تولد کے وقت پیدا ہوا اور اس معنی کا تولّد عند تولّد ابن مريم، وما كان وجوده قبله ولا يكون بعده إلى يوم وجود نہ تو اس سے پہلے تھا اور نہ آئندہ یوم الدین الدين! وهَبُ ، يا فتى، أن عیسی لم تک ہو گا۔اے مرد جوان! فرض کر لے کہ عیسی پیدا نہ يتولّد ولم يُرزق الوجود من الحضرة ہوتا اور نہ ہی اسے اللہ کی طرف سے کوئی وجود دیا فبقى هذا اللفظ كعاطل محرومة من جاتا تو یہ لفظ (توفی) زیور سے محروم ایک عورت الحلية۔فتفكر ولا تُرِنا الأنياب کی طرح ہوتا۔پس غور کر اور ہم پر دانت مت پیس واتق الله التواب۔أتزعم أن هذا اور خدائے تو اب سے ڈر۔کیا تو سمجھتا ہے کہ یہ معنی وہ قالین ہے جس پر صرف ابن مریم نے قدم رکھایا المعنى بساط ما وطأه إلَّا ابن ــريــم، أو سماط ما أَمَّهم إلَّا وہ راہ ہے جس کی رہبری صرف اس شاہ مکرم هذا الملك الــمـكـرم؟ ولو (عیسی) نے کی۔اگر ہم یہ بھی فرض کر لیں کہ آیت فرضنا أن معنى التوفّي في آية: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى ليس إلَّا الرفع فلما توفیتنی میں توفی کے معنی صرف مع الجسم العنصري إلى السماء جید عصری کے ساتھ آسمانوں کی طرف رفع ہی ہیں البقرة : ۲۱۴۱ المائدة : ۱۱۸