الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 104

۴۳ ضمیمه حقيقة الوحي ۱۰۴ الاستفتاء لا يُسأل عما يفعل وهم يُسألون۔اس پر جو وہ کرتا ہے پوچھا نہیں جا تا البتہ ان سے پرسش ہو گی۔ان میں سے بعض اس جھگڑے سے وتنحى بعضهم عن هذا النزاع بوجہ شرمندگی اور خوف الگ ہو گئے اور انہوں نے خجلا وجلا و رجعوا إلى تائبين تو بہ کرتے ہوئے میری طرف رجوع کیا لیکن ان میں سے اکثر ظالم ہیں۔وأكثرهم قاسطون۔أيصرون على حياة عيسى کیا وہ حیات عیسی پر اصرار کرتے ہیں اور اس ويخفون إجماعًا اتفق عليه الصحابة اجماع کو چھپاتے ہیں جس پر سب کے سب صحابہ كلهم أجمعون؟ ويتبعون غیر سبیل نے اتفاق کیا اور ان لوگوں کی راہ کے خلاف چلتے قوم أدركوا صحبة رسول الله ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی صلى الله عليه وسلم وكلّ واحدٍ منهم اور ان میں سے ہر ایک نے نبی کریم استفاض من النبي وتعلم، وانعقد فيض پایا اور تعلیم حاصل کی۔اور ان کا اجماع علیسی إجماعهم على موت عيسى، وهو کی وفات پر تھا اور یہ اجتماع رسول کریم علی الإجماع الأول بعد رسول الله ويعلمه کے بعد سب سے پہلا (اجماع) تھا۔اور علماءاس العالمون۔أنسيتم قول الله: قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ بات کو جانتے ہیں۔کیا تم اللہ کا ارشاد قد خلت أو أنتم للكفر متعمدون؟ وقد من قبله الرسل بھول گئے اور کیا تم جان بوجھ کر کفر کو اختیار کرتے ہو اور صحابہ میں سے ہر ایک مات على هذا الإجماع من كان من الصحابة، ثم صرتم شيعا، صحابی نے اسی اجماع پر وفات پائی۔اس کے بعد تم مختلف گروہ بن گئے اور تم میں تفرقے کی ہوا وهبت فيكم ريح التفرقة، وما أوتيتم سلطانا على حياته، وإن | چلنے لگی۔تمہیں حیات مسیح کی کوئی دلیل نہیں دی گئی أنتم إلا تـظـنـون۔وقد قال الله صرف ظن سے کام لیتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے عیسی حكايةً عن عيسى: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی زبان سے فــلــمــا تـو فیتنی فرمایا ہے ال عمران : ۱۴۵ المائدة : ١١٨