الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 88
۸۸ الحُجَّةُ البَالِغَةُ دوبارہ نازل ہو کر بھی مستقل حیثیت میں نبی ہی رہے گا تو یہ بات صریحاً ختم نبوت کے منافی ہے۔خاتم النبیین کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا خواہ نیا ہو یا پرانا جس نے نبوت کا مقام مستقل حیثیت میں براہ راست بغیر کامل اتباع نبی کریم کے پایا ہو۔آپ کے بعد صرف ایسی نبوت کا دروازہ کھلا ہے جسے ظلی نبوت کے نام سے تعبیر کر سکتے ہیں یعنی ایسی نبوت جو نبی کریم کی نبوت کا ظل ہے نہ کہ مستقل نبوت۔پس اس صورت میں جب کہ آیت خاتم النبیین نبوت مستقلہ کے دروازے کو بڑے زور سے بند کر رہی ہے تو مسیح ناصری کا اُترنا صرف ایسی صورت میں ہی ہوسکتا ہے کہ اسے نعوذ باللہ نبوتِ مستقلہ کے مقام سے ہٹا کر صرف ایک امتی کی حیثیت دی جاوے مگر یہ بات اللہ تعالیٰ کی صریح سنت کے خلاف ہے جو اس نے ان الفاظ میں بیان کی ہے کہ :- بِأَنَّ اللهَ لَمْ يَكُ مُغَيّراً نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (سوره انفال آیت : 54) یعنی اللہ تعالیٰ کسی کو کوئی انعام دے کر اس سے یہ انعام ہرگز واپس نہیں لیتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدل لے“۔تو اب اس صریح اور واضح آیت کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح مان لیا جاوے کہ مسیح ناصری بذات خود آخری دنوں میں نازل ہوگا۔کیونکہ اس کے نازل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس سے نعوذ باللہ خواہ مخواہ اس کی مستقل نبوت کا مقام چھین لیا جاوے گا۔پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ مسیح ناصری کے متعلق فرماتا ہے:۔رَسُولًا إِلى بَنِي إِسْرَاءيل ( سورة آل عمران رکوع ۵) یعنی مسیح" ناصری بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔