الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 89 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 89

۸۹ الحُجَّةُ البَالِغَةُ اب اگر وہی مسیح نازل ہو تو اس کی بعثت بجائے صرف بنی اسرائیل کے ساری دُنیا کے لئے ماننی پڑے گی مگر یہ مندرجہ بالا آیت کے صریح خلاف ہے۔پس اب جس شخص کو قرآنی آیات کے منسوخ اور باطل ثابت کرنے کی خواہش اور جرات ہو وہ بے شک مسیح " ناصری کا منتظر رہے ہم تو اُس خدا سے ڈرتے ہیں جس نے یہود پر کلام الہی میں دست اندازی کرنے کی وجہ سے لعنت کی۔خدا شاہد ہے کہ ہمارا دل کس طرح اس بات کو دیکھ دیکھ کر کڑھتا ہے کہ مسلمان ایک ایسے عقیدے پر جمے ہوئے ہیں جو سنت اللہ کے خلاف ہونے کے علاوہ ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح ناصری دونوں کی سخت ہتک کا موجب ہے۔مگر وقت آتا ہے کہ جب ہمارے بھائی مسلمان اپنی غلطی کو محسوس کریں گے اور مسیح کی آمد کے لئے آسمان کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے پیچھے نظر ڈالیں گے۔اس وقت محمدی مسیح علیہ السلام کا یہ قول پورا ہوگا کہ ے امروز قومِ من نه شناسد مقامِ من روزے بگر یہ یاد کند وقت خوشترم د یعنی آج میری قوم نے میرے خدا داد مقام کو نہیں پہچانا مگر ایک دن آتا ہے کہ وہ میرے با برکت وقت کو یاد کر کے روئے گی“۔بالآخر حضرت مرزا صاحب کی ایک تحریر پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں :- ”اے تمام لو گوئن رکھو کہ یہ اس کی پیش گوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور بُرہان کے رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر