الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page iv of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page iv

بسم الله الرحم الرحم عرض حال ایڈیشن دوم میرا یہ مختصر سا رسالہ الحجہ البالغہ پہلی دفعہ ۱۹۱۷ء میں شائع ہوا تھا جبکہ میں ابھی بالکل نو جوانی کی عمر میں تھا۔اور کالج کی تعلیم سے تازہ تازہ فارغ ہوا تھا۔آج قریباً ساڑھے اڑتیس سال کے طویل عرصہ کے بعد محترمی ملک فضل حسین صاحب کی تحریک پر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہورہا ہے۔میں نے ایڈیشن دوم کے وقت اس رسالہ کے مضمون میں جو میری نو جوانی کے زمانہ کی یادگار ہے کوئی خاص تبدیلی نہیں کی بلکہ صرف کہیں کہیں معمولی لفظی تبدیلی اور آخر میں ایک ضروری تتمہ بڑھانے کے بعد کا تب کے سپر دکر رہا ہوں۔وفات مسیح ناصری کے مسئلہ کو اس لحاظ سے تو جو اہمیت حاصل ہے وہ ظاہر ہے کہ اس مسئلہ کو حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے دعویٰ کے ساتھ ایک بنیادی تعلق ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر اس کی اہمیت کا وہ پہلو ہے جو مسیحیت کے دجالی فتنہ سے تعلق رکھتا ہے۔موجودہ زمانہ میں اسلام کے مقابلہ پر مسیحیت کو جو عارضی اور ظاہری سا غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی تہ میں یہی جھوٹا عقیدہ کارفرما رہا ہے کہ جہاں سرور کائنات فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا کر زیر زمین دفن ہو چکے ہیں وہاں نعوذ باللہ سیح ناصری اب تک آسمان پر خدا کے پہلو میں بیٹھا ہوا دُنیا میں دوبارہ نازل ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔اب وقت ہے کہ اس بے بنیا د عقیدہ کا بطلان ثابت کر کے اسلام کو ہر جہت سے مسیحیت پر غالب کیا جائے۔حق یہ ہے کہ اگر کوئی نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے تو وہ صرف ہمارے آقا (فداہ نفسی) محمد عربی ہیں اور باقی سب اپنا اپنا وقت پورا کر کے وفات پاچکے ہیں۔اللهم صل علی محمد و بارک وسلم ويا ايها الذين أمنواصلوا عليه وسلموا تسليما۔فروری ۱۹۵۵ء خاکسار مرزا بشیر احمد