الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 72

۷۲ الحُجَّةُ البالغة ان حالات میں ناظرین خود غور فرمائیں کہ کیا یہ آیت ایسے عظیم الشان مسئلے کے لئے بنیادی پتھر تصور کی جاسکتی ہے؟ کیا آپ کا نُور قلب اس بات کے قبول کرنے کو تیار ہے کہ مسیح کی آمد ثانی کے مسئلے کا ایک ایسی آیت پر دارو مدار ہو جس میں اکثر مفسرین کے نزد یک مسیح کا کوئی ذکر تک نہیں بلکہ ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتی ہو؟ اور پھر ایک دوسرے گروہ کے نزدیک بھی آیت میں مسیح کا ذکر تک نہ ہو بلکہ ضمیر محمد رسول اللہ کی طرف راجع ہوتی ہو اور صرف ایک قلیل گروہ کے خیال میں ضمیر عیسی کی طرف پھرتی سمجھی جاوے لیکن اس خیال کے مفسرین بھی آپس میں دست بگر یہاں ہوں۔کوئی کہتا ہو کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ حضرت مسیح بوجہ اپنی معجزانہ اور خارق عادت پیدائش کے قیامت پر ایک دلیل تھے اور کوئی کہے کہ نہیں بلکہ چونکہ وہ قرب قیامت میں نازل ہوں گے اس لئے ان کو قیامت کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔ایک دفعہ دہلی میں مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی نے حضرت مرزا صاحب کے سامنے مسیح “ ناصری کے نزول کے متعلق یہی آیت پیش کی تھی۔اس پر حضرت مرزا صاحب نے جو جواب دیا وہ یہ ہے:۔چوتھی دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَإِنَّهُ لَعِلم للسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرْنَ بِهَا اس جگہ بھی آپ مان گئے ہیں کہ یہ آیت آپ کے مطلب پر قطیعۃ الدلالت نہیں ہے لیکن میں آپ کو محض اللہ یاد دلاتا ہوں کہ اس آیت کو حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ نزول سے شنکی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں۔بات یہ ہے کہ حضرت مسیح کے وقت میں یہودیوں میں ایک فرقہ صدوقی نام تھا جو قیامت سے منکر تھا۔پہلی کتابوں میں بطور پیشن گوئی کے لکھا گیا تھا کہ ان کو سمجھانے کے لئے مسیح کی ولادت بغیر باپ کے ہوگی اور یہ ان کے لئے ایک نشان قرار دیا گیا تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ دوسری آیت میں فرماتا