الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 71

اے الحُجَّةُ البَالِغَةُ کیونکہ جس سورۃ میں یہ آیت واقع ہوئی ہے یعنی سورۃ زخرف اس میں قرآن شریف کا بتکرار ذکر ہے اور کئی دفعہ انہ کا لفظ استعمال کر کے قرآن شریف کی طرف ضمیر پھیری گئی ہے اسی واسطے بہت سے مفسرین نے اس ضمیر کو قرآن شریف ہی کی طرف راجع مانا ہے۔ہاں بعض نے اللہ کی ضمیر بے شک عیسی کی طرف پھیری ہے لیکن ایسے مفسرین کے بھی آگے دو گروہ ہو جاتے ہیں۔بعض تو آیت کے یہ معنی کرتے ہیں کہ عیسی قیامت کی نشانی ہیں یعنی وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے مگر بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ عیسی قیامت کی ایک دلیل ہیں بلکہ گزشتہ مفسرین تو الگ رہے خود اس زمانے کے بعض غیر احمدی علماء بھی اس آیت کے یہی معنی کرتے ہیں کہ حضرت عیسی کا وجود قیامت کی ایک دلیل ہے۔چنانچہ مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی ہی کا ترجمہ لے لیجئے مولوی صاحب اس آیت کے ٹھیک وہی معنی کرتے ہیں جو اوپر درج کئے گئے ہیں یعنی د عیسی بھی قیامت کی ایک دلیل ہیں۔اور پھر اس پر مولوی صاحب موصوف ایک نوٹ لکھتے ہیں جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں کہ:- ” جو خدا عیسی علیہ السلام کے بے باپ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ قیامت میں مُردوں کو جلا اُٹھائے یا یہ مطلب ہے کہ حضرت عیسی کا دوبارہ دنیا میں آنا قرب قیامت کی دلیل ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہے۔“ دیکھئے اس جگہ مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی آیت کے اصل معنی یہی لکھتے ہیں کہ مسیح کی معجزانہ پیدائش قیامت پر ایک دلیل ہے اور گو انہوں نے دوسرے معنی بھی بیان کئے ہیں مگر مقدم انہی معنوں کو رکھا ہے کہ مسیح ناصری کا وجود قیامت کی ایک دلیل ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک زیادہ قابل قبول یہی معنی تھے۔پھر بعض مفسرین نے انہ کی ضمیر کومحمد رسول اللہ کی طرف بھی پھیرا ہے۔