الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 29 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 29

۲۹ الحجة البالغة باب دوم (وفات مسیح کے مسئلے کی بحث ) دوسرا حصہ اس مضمون کا مخصوص طور پر وفات مسیح “ کے متعلق ہے۔اب تک میں نے صرف یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ بجسم عنصری تشریف نہیں لے گئے اور اس کی تائید میں بہت سی آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ پیش کی ہیں۔اگر کوئی صاحب ٹھنڈے دل سے غور فرماویں تو اُن پر روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح ناصری کو بجسم عنصری آسمان کی طرف اُٹھا لیا گیا۔اب میں بتاتا ہوں کہ مسیح وفات بھی پاچکا ہے۔نبی کریم سے پہلے جتنے رسول گزرے ہیں وہ سب وفات پاچکے ہیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (سوره آل عمران رکوع ۱۵) د یعنی محمد صلی ا یہ تم اللہ کے صرف ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے جتنے رسول ہوئے ہیں وہ سب گزر گئے تو کیا اگر محمد سلیم بھی طبعی موت سے فوت ہو جاویں یا قتل کر دئے جاویں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟“ یہ آیت صاف طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی موت کی خبر دیتی ہے اور ان کی نسبت بتاتی ہے کہ وہ سب کے سب وفات پاچکے ہیں۔