الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 28
۲۸ الحُجَّةُ البَالِغَةُ اس آیت میں لباس کے لئے بھی نزول کا لفظ بیان ہوا ہے، حالانکہ لباس تو روئی وغیرہ سے زمین پر ہی تیار کیا جاتا ہے۔اسی طرح قرآن شریف فرماتا ہے: وَانْزَلْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ 66 (زمررکوع ۱) د یعنی خدا نے تم پر چار پائے اُتارے ہیں۔حالانکہ گھوڑے گدھے اور بیل ا سب زمین پر ہی پیدا ہوتے ہیں۔ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ نزول کے معنی ہمیشہ لفظی طور پر اترنے کے ہی نہیں ہوتے بلکہ اکثر دفعہ نزول کا لفظ اس چیز کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی نوع انسان کو بطور ایک انعام کے دی جاتی ہے اور چونکہ ایسی نعمت خدا کی طرف سے آتی ہے اس لئے اس کے متعلق نزول کا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات عربی محاورہ میں نزول کا لفظ مطلق ظاہر ہونے کے معنے بھی دیتا ہے۔اور یہ تو خیر سب لوگ جانتے ہیں کہ نزیل کا لفظ مسافر پر بھی بولا جاتا ہے اور جس جگہ سفر کے بعد قیام کیا جاوے اس کو منزل کہتے ہیں۔علاوہ اس کے بعض احادیث میں مسیح کے متعلق بعث اور خروج کے الفاظ بھی آئے ہیں ( کنز العمال) جو نزول کے معنوں کی بڑی صراحت کے ساتھ تعیین کر دیتے ہیں کیونکہ اس صورت میں جو مفہوم بعث اور خروج اور نزول میں مشترک ہے ( یعنی ظاہر ہونے کا ) وہی درست اور صحیح مانا جائے گا۔پس لفظ نزول سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا ایک سخت غلط راہ ہے جس سے ہر عقلمند کو پر ہیز لازم ہے۔قرآن کریم کسی بشر کے آسمان پر بجسم عنصری جانے کو صاف الفاظ میں ممتنع قرار دیتا ہے۔حدیث مسیح کے آسمان پر زندہ جا بیٹھنے پر کوئی گواہی نہیں دیتی بلکہ مخالف ہے اور عقلِ انسانی اس عقیدے کو دور سے ہی دھکے دیتی ہے تو پھر خواہ مخواہ حضرت مسیح علیہ السلام کو کیوں آسمان پر بیٹھا ہوا تصور کیا جاوے۔