الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 26 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 26

۲۶ الحُجَّةُ البَالِغَةُ نزول کی اصل حقیقت اس کے بعد ہم پھر اپنے اصل مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں جو حضرت عیسی کے رفع اور نزول کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ہمارے مخالف مولوی صاحبان مسیح علیہ السلام کے آسمان پر زندہ جانے کے ثبوت میں ایک دلیل یہ دیا کرتے ہیں کہ احادیث میں آنے والے مسیح کے متعلق نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو اُترنے کے معنوں میں آتا ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ مسیح ناصری آسمان سے نازل ہوں گے اور ظاہر ہے کہ آسمان سے وہ صرف اس صورت میں ہی نازل ہو سکتے ہیں جب کہ وہ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہوں۔اس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہئے که اول تو کسی صحیح حدیث میں مسیح کے متعلق نزول کے ساتھ سماء کا لفظ استعمال نہیں ہوا تا آسمان سے اترنے کے معنی لئے جاویں۔حضرت مرزا صاحب نے کئی ہزار روپیہ انعام اس شخص کے لئے مقررکیا جو کوئی مرفوع متصل صحیح حدیث ایسی پیش کرے جس میں مسیح علیہ السلام کے متعلق زندہ آسمان پر جانے اور پھر آسمان سے نازل ہونے کے الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہوں مگر آج تک کوئی مخالف ایسی حدیث پیش نہیں کر سکا۔اس سے ناظرین نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ کوئی ایسی حدیث موجود ہی نہیں۔علاوہ اس کے نزول کے معنوں پر بھی غور نہیں کیا گیا۔عربی زبان میں نزول کے معنی ظاہر ہونے اور آنے کے بھی ہیں جیسا کہ لغت کی کتب سے ظاہر ہے۔خود قرآن