الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 92
۹۲ الحُجَّةُ البَالِغَةُ پیشگوئی کے پورا ہونے کے ابتدائی آثار ہیں جو خدا کے فضل وکرم سے اس اعلان کے پچاس ساٹھ سال کے اندر اندر ہی ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔یہ درست ہے کہ ابھی یہ طبقہ اس مسئلے کو دوسرے رنگ میں پیش کر رہا ہے یعنی یہ کہ اسلام میں کسی مسیح کے نزول یا ظہور کی پیشگوئی ہی نہیں پائی جاتی اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کے لئے کسی روحانی مصلح کی ضرورت ہے۔لیکن عظمند انسان جسے اسلامی صحائف کا تھوڑا بہت مطالعہ ہے آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ یہ خیال کہ آنحضرت کے بعد کسی روحانی مصلح کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ کے ازلی اصلاحی نظام کے خلاف ہے جو یہ ہے کہ جب بھی دنیا میں عقائد اور اعمال کا غیر معمولی فساد برپا ہوتا ہے تو خدا اسے اپنے کسی خاص تربیت یافتہ مصلح کے ذریعہ دور فرماتا ہے۔روحانی مصلحوں کا مبعوث ہونا صرف نئی شریعت لانے کی غرض سے نہیں ہوا کرتا بلکہ خالق ہستی پر بندوں کے ایمان کو تازہ کرنے اور لوگوں کے نفوس کی اصلاح اور اخلاق کی درستی اور باطل خیالات کی سرکوبی کے لئے بھی ہوتا ہے اور یہ غرض قرآن شریف کے مکمل ہو جانے کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت کے بعد مسلمانوں میں کئی مجد دمبعوث ہوتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ“ کے بعد بھی ان کی شریعت کی اتباع میں کئی روحانی مصلح آتے رہے جنہیں کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ وہ صرف موسوی شریعت کی خدمت کے لئے ہی مبعوث ہوتے تھے۔باقی رہا یہ مخصوص اعتراض کہ اسلام میں کسی مسیح کے نزول کی پیشگوئی نہیں پائی جاتی سو یہ خیال بھی بالبداہت باطل ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اس زمانے میں اس خیال کا پیدا