الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 87
AL الحُجَّةُ البَالِغَةُ تعجب ہے باوجود ایک کھلی نظیر سامنے ہونے کے پھر بھی مسلمان اس مسئلے میں ٹھوکر کھا رہے ہیں۔بعینہ جس طرح مسیح ناصری کی نسبت کہا گیا کہ وہ آخری دنوں میں نازل ہوگا اس سے بڑھ کر وضاحت کے ساتھ ایلیا کی نسبت کہا گیا تھا کہ وہ مسیح سے پہلے نازل ہوگا۔لیکن حیرت کا مقام ہے کہ ایلیا کے وعدے کو تو ایک مثیل کے ذریعے پورا شدہ مان لیا جاتا ہے لیکن مسیح کے بذات خوداُتارے جانے پر اصرار ہے! افسوس جس جگہ یہود نے ٹھوکر کھائی اسی جگہ مسلمانوں نے بھی ٹھوکر کھائی۔مگر یہود ایسی گرفت کے نیچے نہیں ہیں جیسے کہ مسلمان ہیں کیونکہ یہود کے سامنے کوئی سابقہ نظیر موجود نہیں تھی لیکن مسلمانوں کے لئے اس قسم کے وعدہ کی نظیر موجود ہے اور وہ دیکھ چکے ہیں کہ کسی گزشتہ نبی کے آنے سے اس کے مثیل کا آنا مُراد ہوتا ہے نہ کہ خود اُسی کا آنا۔آہ سچ فرمایا تھا نبی کریم نے کہ میری اُمت کے لوگ یہود کے قدم بہ قدم چلیں گے( بخاری جلد اول صفحہ ۴۹۱) یعنی جس طرح یہود نے ایک گزشتہ نبی کی آمد کے وعدہ کو خود اُسی نبی کی آمد سمجھ لیا تھا اسی طرح میری امت کے لوگ بھی کریں گے لیکن مسلمانوں نے اس تنبیہہ سے بھی کوئی فائدہ نہ اُٹھایا اور صرف اس وجہ سے آنے والے کا انکار کر دیا کہ مسیح ناصری کے آنے میں نہ صرف محمد کی ہی سخت ہتک ہے بلکہ خود مسیح کی بھی ہتک ہے۔کیونکہ مسیح ناصرئی خواہ نبی کریم سے درجہ میں کتنا ہی چھوٹا ہو پھر بھی وہ خدا کا ایک برگزیدہ رسول تھا جس نے نبوت کا مقام نبی کریم کی اتباع کی وجہ سے نہیں پایا بلکہ اُسے یہ انعام مستقل حیثیت میں براہِ راست خدا کی طرف سے ملا تھا۔اب اُسے دوبارہ اُتارنے کے یہ معنی ہیں کہ اُسے نعوذ باللہ اس کی مستقل نبوت کے مقام سے معزول کر دیا جاوے اور صرف ایک امتی کی حیثیت دی جاوے۔کیونکہ اگر وہ