الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 86
۸۶ الحُجَّةُ البَالِغَةُ پادری صاحب نہایت سادگی سے بولتے ہیں کہ محمد صاحب سے جب ان کے مخالفوں نے آسمان پر جانے کا معجزہ طلب کیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا۔میں تو صرف ایک انسان ہوں اور انسان کا آسمان پر جانا منع ہے مگر دیکھو تم بھی مانتے ہو کہ مسیح زندہ آسمان پر جا پہنچا۔ان باتوں کا جواب کون دے؟ اگر عوام مولویوں کے پاس جائیں تو ان کے ایمانوں کی بودی چٹانوں پر پہلے سے ہی ان باتوں نے زلزلہ ڈال رکھا ہوتا ہے۔ادھر ادھر کی باتیں کر کے ٹال دیتے ہیں۔یہ بے چارے جب مولویوں کی طرف سے تسلی بخش جواب نہیں پاتے تو چاروناچار گر جا کی طرف رُخ کرتے ہیں۔آہ افسوس ! وہ مذہب جو کسی زمانے میں يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا کا مصداق تھا آج يَخْرُجُونَ مِن دِینِ اللهِ أَفْوَاجاً کا تماشہ گاہ بن رہا ہے ، کیا کوئی مسلمان کہلانے والا انسان ہے جس کے دل میں یہ باتیں درد پیدا کریں؟ آہ ! بہت تھوڑے ہیں جو صحت نیت کے ساتھ ان مسائل پر غور کرتے ہیں ورنہ معاملہ تو بالکل صاف ہے۔وہ جس کی آمد ثانی کا انتظار کیا جارہا ہے وہ خود پکار پکار کر اپنی دوسری آمد کی حقیقت بیان کر رہا ہے۔کیونکہ ایلیا نبی جس کی نسبت خیال تھا کہ مسیح سے پہلے آسمان سے اترے گا اس کی آمد ثانی کو مسیح نے اس کے کسی مثیل کی آمد قرار دیا ہے۔(متی باب ۱۱ آیت ۱۳ و ۱۴) ے یہ عبارت ملکی تقسیم سے بہت قبل یعنی ۱۹۱۷ میں لکھی گئی تھی جبکہ ملک میں مسیحیت کے فتنہ کا زور تھا۔اب خدا کے فضل سے مسلمانوں کے دل میں سیاسی شعور پیدا ہو جانے کی بناء پر اسلام سے ظاہری ارتداد کا منظر تو کم نظر آتا ہے اور قومی نعرے زور شور سے لگائے جاتے ہیں مگر حقیقت اور عمل کے لحاظ سے اسلام اب بھی ویسا ہی کمزور ہے اور دنیا میں دجالی اثرات اسی طرح زور آزما ہیں۔حق یہ ہے کہ ملک سے انگریز تو بے شک چلا گیا مگر مغربیت اور مادیت اسی طرح قائم ہے اور دین کی سچی روح مفقود نظر آتی ہے۔