الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 85
۸۵ الحُجَّةُ البالغة پر نظر ڈالتا ہوں تو محو حیرت ہو جاتا ہوں کہ ایسا بودہ مسئلہ کس طرح مسلمانوں کے دلوں میں راسخ ہو گیا۔مگر اب وقت ہے کہ ایسی باتوں سے اسلام کا دامن پاک کیا جاوے جو صریح اسلامی تعلیم کے خلاف ہونے کے علاوہ ہمارے آقا سید الاولین والآخرین کی ہتک کا موجب ہو رہی ہیں۔خدا مسلمانوں کی آنکھوں کو کھولے تا وہ دیکھیں کہ ان غلط اور فاسد عقائد نے اسلام کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔صرف ہندوستان میں ہی پچھلے چند سالوں میں لاکھوں کلمہ گو مسلمان عیسائی ہو چکے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ان سب کا گناہ مولویوں کی گردن پر ہے۔عیسائی مشنری بھولی بھالی صورت بنا کر مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں اور بڑی نرمی کے ساتھ کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارے نبی تو مر گئے اور مدینے میں زیر خاک مدفون ہیں لیکن ہمارا مسیح دو ہزار سال سے اب تک نہ صرف زندہ ہے بلکہ آسمان پر خدا کے پاس بیٹھا ہے بتاؤ کون افضل ہوا اور کون زندہ نبی ثابت ہوا اور کون مردہ نبی نکلا؟ مسلمانوں کے لئے مسیح علیہ السلام کی وفات کا کلمہ تو منہ پر لانا کفر ہوا نا چار دبی زبان سے یہی قبول کر لیتے ہیں کہ اس بات میں تو مسیح ہی افضل ہے۔اس کے بعد پادری صاحب کہتے ہیں کہ دیکھو آخری زمانے میں جب امت محمدیہ میں فساد اور گمراہی پھیلے گی تو اس کی اصلاح کے لئے خدا ہمارے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر سے بھیجے گا۔معلوم ہوتا ہے وہ کوئی ایسا فساد ہوگا کہ اس کی اصلاح ( نعوذ باللہ ) اسلام کے نبی کی روحانی طاقت سے بالا ہوگی ورنہ خدا نے اگر کسی کو زندہ رکھ کر ہی آخری زمانے میں امت محمدیہ کی اصلاح کروانی تھی تو خود محمد صاحب کو زندہ رکھا جا تا مگر اس اہم کام کے لئے محمد صاحب کی بجائے ہمارے مسیح کو زندہ رکھا گیا۔یہاں تک تو مسیح کی افضلیت منوائی جاتی ہے اس کے بعد اگلا قدم اُٹھایا جاتا ہے۔