الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 83

ᎪᎨ الحُجَّةُ البَالِغَةُ آخری مستقل خلیفہ مراد ہے نہ کہ مطلقاً ہر قسم کا خلیفہ۔یعنی مراد یہ ہے کہ مسیح موعود خود تو نبی کریم کا مستقل خلیفہ ہو گا مگر مسیح موعود کے بعد جو خلیفے ہوں گے وہ دراصل مسیح موعود کے خلیفے ہوں گے اور اس کی وساطت سے نبی کریم کے بھی خلیفے کہلائیں گے کیونکہ محمدی سلسلہ قیامت تک چلے گا۔تیسری اور بڑی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری دنوں میں عیسائیت بہت زور پکڑے گی اور صلیبی مذہب بڑے غلبہ کی حالت میں ہوگا اس لئے آنے والے مصلح کا ایک بڑا کام یہ بھی رکھا گیا کہ يَكْسِرُ الصَّلِيْب یعنی مسیح موعود صلیبی مذہب کا زور توڑ دے گا۔اس میں حکمت یہ ہے کہ جب کسی نبی کی امت میں فساد برپا ہوتا ہے تو پھر روحانی طور پر اس نبی کا ہی یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اس فساد کو دور کرے جس طرح اگر کسی حکومت میں فساد ہو تو باہر کی حکومتوں کا فرض نہیں ہوتا کہ اس فساد کو دور کریں بلکہ خود اسی حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے۔اب ایک طرف تو آخری زمانے کے لئے مقدر تھا کہ وہ عالم گیر فساد کا زمانہ ہوگا اور تمام امتوں میں فساد برپا ہو جائے گا۔ایسے وقت کے لئے ضرورت تھی کہ تمام امتوں کے بانیوں کے بروز ظاہر ہوتے جو ان کے مثیل بن کر اصلاح کا کام کرتے لیکن دوسری طرف اسلام کی آمد اور خاتم النبیین کے ظہور نے تمام روحانی پانی اپنے اندر کھینچ لیا ہے اور اب کوئی مصلح اسلام کے باہر کسی اور اُمت میں ظاہر نہیں ہو سکتا اس لئے تمام نبیوں کا بروز ایک ہی وجود میں اسلام میں پیدا کیا جانا ضروری تھا۔اس آنے والے مصلح کا کام یہ رکھا گیا کہ تمام امتوں کی اصلاح کرے۔اس طرح اس موعود مصلح کا کام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ایک خود امت محمدیہ کی اصلاح اور دوسرے باقی امتوں کی اصلاح لیکن چونکہ باقی امتوں کی اصلاح کے کام میں سب سے بڑا کام حضرت عیسی کی امت کی اصلاح تھی جیسا کہ حدیث کے الفاظ يَكْسِرُ الصَّلیب سے ظاہر ہے اس لئے اس پہلو کے