الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 82 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 82

۸۲۔الحُجَّةُ البالغة ہے؟ اس کے جواب میں کئی باتیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر اس جگہ سب کا درج کرنا موجب طوالت ہوگا اس لئے چند موٹی موٹی حکمتوں کے بیان کرنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔اول یہ کہ آنے والا مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خُو بو پر آنا تھا جس طرح ایلیا نبی کی خوبو پریٹی نبی آیا۔حضرت عیسی صلح اور امن کے شہزادے تھے انہوں نے تمام عمر جمال کے رنگ میں صلح اور نرمی کے ساتھ اپنی رسالت کی تبلیغ کی اور اگر مخالفوں نے کبھی سختی بھی کی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور مقابلہ نہیں کیا اسی طرح امت محمدیہ کے مسیح موعود نے آنا تھا جیسا کہ خود نبی کریم نے مسیح موعود کے متعلق فرمایا ہے کہ يَضَعُ الحرب ( بخاری کتاب الانبیاء ) یعنی جب مسیح موعود ظاہر ہوگا تو وہ تلوار کے جہاد کو ملتوی کر دے گا کیونکہ وہ جہاد بالسیف کا زمانہ نہیں ہوگا۔دوسری حکمت اس میں یہ تھی کہ جس طرح مسیح ناصری موسوی سلسلے کا خاتم الخلفاء تھا اسی طرح یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ آنے والا مسیح نبی کریم کا آخری خلیفہ ہوگا اور خاتم الخلفاء کہلائے گا۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ اس جگہ آخری خلیفے سے (بقیہ حاشیہ ) وجہ سے اسے اسی نام سے پکاریں گے مگر خدا کی نظروں میں وہ اب بجائے غلام رسول کے عدو الرسول ہو چکا ہے۔اس لئے خدا اسے عدو الرسول ہی کہے گا۔اس لئے خدا نے جب آنے والے کے متعلق ابن مریم کا نام استعمال کیا تو وہ ظاہری طور پر اس نام سے کوئی غرض نہیں رکھتا بلکہ چونکہ گزشتہ ابن مریم کے حالات اور صفات نے اس نام کے ایک خاص معنی مخصوص کر دیئے ہوئے ہیں یعنی جمالی رنگ میں صلح سے کام کرنے والا اور ایک سلسلہ کا آخری خلیفہ۔اس لئے خدا نے اس نام کو اسی حقیقت کے ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا ورنہ صرف ابن مریم کا عرفی نام خدا کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔لہذا خدا کے کلام میں یقینی طور پر ابن مریم سے مراد گزشتہ ابن مریم کی خُو بو پر آنے والا انسان ہونا چاہئے۔اور جب یہ ثابت ہے تو ہم سے قرینہ صارفہ کا تقاضا کیسا ؟ ہمارا دعوی سنت اللہ کے مطابق ہے کہ اس نے اپنے اصول کے مطابق اس نام کو اپنے حقیقی مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ہاں جولوگ اس نام کو اس کی قائم شدہ حقیقت سے ہٹا کر صرف ایک عرفی اور رسمی نام تجویز کرتے ہیں وہ بے شک اسے حقیقت سے ہٹا کر مجاز کے رنگ میں لیتے ہیں اس لئے ان پر واجب ہے کہ اپنے معنوں کی تائید میں کوئی دلیل پیش کریں۔