الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 81 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 81

ΔΙ الحُجَّةُ البَالِغَةُ آمد کی خبر دی تھی جس کا نام احمد ہو گا۔اب ہمارے تمام مخالفین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ پیشگوئی نبی کریم کے آنے سے پوری ہوچکی ہے لیکن کیا نبی کریم کا نام احمد تھا ؟ یہ درست ہے کہ نبی کریم نے نبوت کے دعوئی کے بعد یہ فرمایا کہ میں احمد بھی ہوں لیکن دعوے کے بعد اس نام کو اپنی طرف منسوب کرنا مخالف پر کسی طرح حجت نہیں ہوسکتا۔مخالف پر تو تب ہی حجت ہو جب کہ یہ ثابت کیا جاوے کہ آپ کے بزرگوں کی طرف سے آپ کا یہ نام رکھا گیا تھا یا یہ کہ دعوے سے پہلے آپ کبھی اس نام سے پکارے گئے لیکن احادیث صحیحہ سے یہ ہرگز ثابت نہیں اس لئے سوائے اس کے اس کا اور کیا جواب ہو سکتا ہے کہ آسمان پر آپ کا نام احمد تھا جس طرح کہ آسمان پر بیبی کا نام ایلیا تھا۔ان دو مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ پیشگوئیوں میں جو نام بتائے جاتے ہیں وہ لازماً ظاہر میں پائے جانے ضروری نہیں ہوتے بلکہ بسا اوقات وہ کسی باطنی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والے ہوتے ہیں۔اب سوال ہوتا ہے کہ آنے والے مصلح کے متعلق مسیح ابن مریم وغیرہ نام استعمال کرنے میں کون سی مخفی حکمت لے اس جگہ بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مسیح ابن مریم کا نام جو نبی کریم نے لیا تو اب یہ اس وقت تک اپنے اصل مفہوم میں سمجھا جائے گا جب تک اس کے خلاف کوئی قرینہ صارفہ نہ ثابت کیا جائے اس کا اصل اور موٹا جواب تو یہی ہے کہ جب قرآن شریف صفائی کے ساتھ پہلے مسیح کو وفات یافتہ کہتا ہے اور مردوں کا زندہ ہو کر اس دنیا میں آجانا بھی اسلامی تعلیم کی رُو سے ممتنع ہے تو پھر اس سے بڑھ کر قرینہ صارفہ کیا ہوگا؟ اس سے واضح تر قرینہ صارفہ تو خیال میں نہیں آسکتا لیکن سوال یہ ہے کہ قرینہ صارفہ ہم سے کیوں پوچھا جاتا ہے؟ قرینہ صارفہ نکالنا تو غیر احمد یوں کا فرض ہے کیونکہ خدا کو توحقیقت اشیاء سے تعلق ہے ان کے ظاہری ناموں سے تعلق نہیں ہے ہم بے شک عرف کی خاطر ظاہری ناموں کا لحاظ رکھتے ہیں مگر خدا تعالیٰ اشیاء کی اصل حقیقت کو مدنظر رکھتا ہے اور اس کی نظر میں اصل نام صفتی نام ہی ہوتا ہے نہ کہ ظاہری نام مثلاً اگر ایک غلام رسول نامی مسلمان عیسائی ہو جائے تو گو ہم تو عرف کی (باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر )