الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 80 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 80

۸۰ الحُجَّةُ البَالِغَةُ اس لئے ان کو ظاہر پر حمل کرنا درست نہیں ہوتا۔عام طور پر ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ آنے والے اور اس نام کے درمیان کسی گہرے صفاتی تعلق کو ظاہر کریں۔مثلاً بنی اسرائیل کو یہ وعدہ دیا گیا تھا کہ مسیح کے ظہور سے پہلے الیاس یعنی ایلیا نبی کا دوبارہ نزول ہوگا ( ملا کی باب ۱۴ آیت (۵) جن کی نسبت یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ وہ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں۔( سلاطین باب ۲ آیت ۱۱) ان حالات میں ظاہر پرست یہود نے ایلیا نبی کے نزول سے یہ سمجھا کہ وہ ایلیا جو پہلے گزر چکا وہی بذاتِ خود نازل ہوگا اور اس کے بعد موسوی سلسلہ کا مسیح آئے گا۔اس لئے جب حضرت عیسی نے مسیحیت کا دعویٰ کیا تو یہود نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ہماری کتابوں میں تو لکھا ہے کہ مسیح سے پہلے ایلیا نبی آسمان سے نازل ہوگا۔لیکن چونکہ ابھی تک ایلیا نہیں آیا اس لئے عیسی کا دعوی سچا نہیں ہو سکتا۔اس کا جواب عیسی علیہ السلام نے سنت اللہ کے مطابق یہ دیا کہ ایلیا کی جو پیشگوئی کی گئی تھی اس سے خود ایلیا کا آنا مراد نہیں تھا۔بلکہ وہ استعارہ کے رنگ میں ایسے نبی کی خبر تھی جو ایلیا کی خُوبو پر آئے گا اور وہ آچکا ہے اور وہی بیتی ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے (متی باب ۱۱، آیت ۱۳ و ۱۴) لیکن ظاہر پرست یہودی اسی بات پر جمے رہے کہ خود ایلیا کا دوبارہ آنا لکھا ہے اس لئے بیٹی کا آنا اس کا آنا نہیں ہوسکتا۔اور اس طرح وہ نجات سے محروم ہو گئے۔اس مثال سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ پیشگوئیوں میں آئندہ آنے والے مصلحوں کے جو نام بتائے جاتے ہیں ان کو ہمیشہ ظاہر پر حمل کرنا سخت ہلاکت کی راہ ہے جس سے ہر مومن کو پر ہیز لازم ہے۔دیکھئے کجا ایلیا نبی کا آنا اور کجا یحیی " کا ؟ مگر مسیح، یحیی کو ہی ایلیا قرار دے رہے ہیں۔کیونکہ وہ ایلیا کی خوبو پر اور اس کی صفات کا حامل ہوکر ظاہر ہوا تھا۔اسی طرح قرآن شریف میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح “ نے ایک رسول کی