الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 76 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 76

الحُجَّةُ البَالِغَةُ وَالْأَكْثَرُ انَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَمُتُ وَقَالَ مَالِكَ مَاتَ یعنی اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسی قوت نہیں ہوئے لیکن امام مالک فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔“ پھر امام ابن حزم کی نسبت لکھا ہے کہ :- وَتَمَسَّكَ ابْنُ حَزَمَ بِظَاهِرِ الْآيَةِ وَقَالَ مَوْتِهِ یعنی ابن حزم نے ظاہر آیت پر تمشک پکڑ کر مسیح علیہ السلام کی وفات بیان کی ہے۔پھر حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ مسیح کا دوسرا نزول بروزی طور پر ہوگا است یعنی مسیح خود نہیں آئیں گے بلکہ ان کا کوئی بروز آئے گا جو ان کی خوبو پر ظاہر ہوگا۔۔ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ امت محمدیہ کا اس باطل مسئلے پر اجماع رہا ہے بلکہ خلاف اس کے اگر کوئی بات ثابت ہوتی ہے تو وہ یہ ہے کہ اگر امت کا کسی مسئلے پر کبھی اجماع ہوا ہے تو وہ وفات مسیح “ ہی کا مسئلہ ہے جیسا کہ آنحضرت کی وفات کے بعد صحابہ کا اجماع ہوا اور صحابہ کے زمانے کے بعد تو امت محمدیہ کثرت کے ساتھ دور دراز ملکوں میں پھیل گئی اور منتشر ہوگئی اس لئے صحابہ کے بعد کے زمانے میں کسی مسئلے کے متعلق اجماع کا دعوی کر دینا تو آسان ہے لیکن اس کو ثابت کرنا ناممکنات سے ہے اسی لئے امام احمد بن حنبل سفر ماتے ہیں کہ جوا جماع کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے۔ہاں یہ بات بے شک درست ہے کہ کئی صدیوں سے مسیح کی حیات کا مسئلہ عام طور پر لوگوں میں پھیلا ہوا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ کسی غلط عقیدے کا عام طور پر رائج ہو جانا بعید از قیاس نہیں ہے۔دیکھئے آج کل مسلمانوں کے کم از کم بہتر فرقے ہورہے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وہ ا۔یہ چند مثالیں صرف بڑے بڑے اماموں کی بیان کی گئی ہیں ان کے متبعین الگ رہے جو انہی کے تابع سمجھے جائیں گے۔منہ