الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 4 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 4

الحجة البالغة سے پہلا سوال ہے جوصل ہونا چاہئے۔باب اول (رفع الى الشماء کا مسئلہ ) اس مختصر تمہید کے بعد میں چند موٹی موٹی عام فہم باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں جن سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری ہرگز آسمان پر بجسم عصری نہیں اُٹھائے گئے بلکہ انہوں نے زمین پر ہی اپنی زندگی کے دن کاٹے اور زمین پر ہی فوت ہوئے۔انسان کی زندگی اور موت اسی دُنیا کے ساتھ وابستہ ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے :- فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ (سورہ اعراف رکوع ۲) و یعنی تم اپنی زندگی کے دن زمین پر ہی کاٹو گے اور زمین پر ہی تمہیں موت آئے گی۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ وضاحت کے ساتھ فرماتا ہے کہ تمام انسانوں کے لئے یہ مقدر ہو چکا ہے کہ وہ زمین پر ہی زندگی کے دن گزاریں گے اور زندگی کے دن گزارنے کے بعد جب موت کا وقت آئے گا تو ان کی موت بھی زمین پر ہی ہوگی۔ظاہر ہے کہ دنیا میں انسان پر دو ہی زمانے آتے ہیں ایک زندگی کا زمانہ ہے اور ایک موت کا زمانہ۔ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔اب سوال