الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 5 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 5

الحُجَّةُ البَالِغَةُ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام با وجود ایک انسان ہونے کے کس طرح بجسم عصری آسمان پر جا بیٹھے ؟ کیا مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر لے جاتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنے اس فیصلہ کو بھول گیا کہ انسان اپنی زندگی کے دن زمین پر ہی کالے گا اور زمین پر ہی فوت ہوگا ؟ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا - أَحْيَاء وَأَمْوَاتاً ( سوره مرسلات رکوع ۱) د یعنی ہم نے اس زمین کو ایسا بنایا ہے کہ وہ انسان کو اپنی طرف کھینچنے والی اور اس کو اپنے پاس روکنے والی ہے خواہ انسان زندگی کی حالت میں ہو یا کہ مُردہ ہو۔66 اس آیت نے گویا پہلی آیت کی تشریح کر دی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے زمین کے اندر یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ زندوں اور مردوں کو اپنے ساتھ لگائے رکھتی ہے اور انسانی جسم کو اپنے سے باہر نہیں جانے دیتی۔یہ آیت بھی مسیح کے آسمان پر جانے کو غلط ثابت کر رہی ہے۔نبی کریم سال یا اینم اپنی بشریت کو آسمان پر زندہ بجسم عصری جانے کے رستہ میں روک بیان فرماتے ہیں پھر اس سے بھی بڑھ کر لیجئے کہ جب کفار نے نبی کریم مال کی تم سے کہا کہ اگر آپ بچے ہیں تو ہمیں آسمان پر چڑھ کر دکھا ئیں پھر ہم مان لیں گے۔تو اس کے جواب میں