الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 73
۷۳ الحُجَّةُ البَالِغَةُ ہے وَ لِنَجْعلہ آیۃ للناس اس جگہ الناس سے مراد وہی صدوقی فرقہ ہے جواس زمانے میں بکثرت موجود تھا۔کیونکہ توریت میں قیامت کا ذکر بظاہر کسی جگہ معلوم نہیں ہوتا اس لئے یہ فرقہ مردوں کے جی اٹھنے سے بکلی منکر ہوگیا تھا۔اب تک بائیبل کے بعض صحیفوں میں موجود ہے کہ مسیح " اپنی ولادت کی رُو سے بطور عِلمُ السَّاعَةِ کے ان کے لئے آیا تھا اب دیکھئے اس آیت کو نزول مسیح سے تعلق کیا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ مفسرین نے کس قدر جدا جدا طور پر اس کے معنی لکھے ہیں۔ایک جماعت نے قرآن کریم کی طرف ضمیر انه کی پھیر دی ہے کیونکہ قرآن شریف سے رُوحانی طور پر مردے زندہ ہوتے ہیں اور اگر خواہ نخواہ تحکم کے طور پر اس جگہ نزول مسیح مراد لیا جائے اور وہی نزول ان لوگوں کے لئے جو آنحضرت کے عہد میں تھے نشانِ قیامت ٹھہرایا جائے تو یہ استدلال وجود قیامت تک ہنسی کے لائق ہوگا اور جن کو یہ خطاب کیا گیا کہ مسیح آخری زمانے میں نزول کر کے قیامت کا نشان ٹھہرے گا۔تم باوجود اتنے بڑے نشان کے قیامت سے کیوں انکاری ہوئے۔وہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ دلیل تو ابھی موجود نہیں۔پھر یہ کہنا کس قدر عبث ہے کہ اب قیامت کے وجود پر ایمان لے آؤشک مت کرو ہم نے دلیل قیامت کے آنے کی بیان کر دی۔(الحق دہلی صفحہ ۳۸-۳۹) ناظرین غور فرمائیں کہ واقعی یہ کس قدر ہنسی کے قابل بات ہے کہ جو چیز آئندہ کسی زمانے میں ہونی ہے اس کو ان لوگوں کے لئے دلیل ٹھہرایا جاوے جواب موجود ہیں۔مسیح نے تو کسی آئندہ زمانے میں جا کر نازل ہونا تھا لیکن اس کے نزول کو نبی کریم کے زمانے کے منکرین کے سامنے بطور دلیل کے پیش کیا جا رہا ہے۔نعوذ بالله من ذلک۔اگر ہمارے مخالف مولویوں کے معنی قبول کئے جائیں تو نعوذ باللہ قرآنِ شریف دلائل کی رو سے ایک نہایت بودی کتاب نظر آتی ہے۔غور تو کیجئے کہ نبی کریم