الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 74
۷۴ الحُجَّةُ البَالِغَةُ کے زمانے کے مخالفوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ دیکھو مسیح علیہ السلام کا دوبارہ قرب قیامت میں نازل ہونا قیامت کی ایک دلیل ہے پس تم قیامت کے متعلق کسی شک میں نہ پڑو! کیا اس سے بھی زیادہ کوئی کمزور دلیل ہوگی؟ موجودہ لوگوں کے لئے تو جو چیز واقع ہوچکی ہو یا ان کی زندگی میں واقع ہو جانے والی ہو اس کو کسی آئندہ واقع ہونے والی چیز کے ثبوت میں پیش کیا جاسکتا ہے مگر یہ دلیل عجیب ہے کہ دیکھو تمہارے مرنے کے بعد آخری زمانے میں مسیح" نازل ہوگا اس لئے تم قیامت کے وجود میں کوئی شک و شبہ نہ کرو! خدا تعالیٰ کی طرف ایسے لغو اور بیہودہ دلائل منسوب کرنا سراسر معصیت میں داخل ہے مگر چودھویں صدی کے مولویوں کو کون سمجھا وے؟ باب پنجم ( بعض متفرق شبہات کا ازالہ ) اس قدر لکھنے کے بعد میں ناظرین کرام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ از راہ مہربانی غور کریں کہ کس طرح ہم نے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح ناصری آسمان کی طرف زندہ نہیں اُٹھائے گئے بلکہ ان کا انہی معنوں میں رفع ہوا جن معنوں میں کہ تمام مقربین بارگاہ الہی کا رفع ہوا کرتا ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ یہ بھی روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ قرآن شریف اور احادیث پکار پکار کر گواہی دے رہے ہیں کہ مسیح ناصری فوت ہو چکا ہے اور جو شخص وفات پا جاتا ہے سنت اللہ اس کے زندہ ہو کر دنیا میں واپس آنے کو ممتنع قرار دیتی ہے پھر اسی پر بس نہیں بلکہ کلام اللہ اور اقوال الرسول سے صاف صاف آپ کو دکھا دیا گیا کہ نبی کریم کے تمام خلفاء اسی امت