الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 70 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 70

موعودم , الحُجَّةُ البَالِغَةُ بجلیہ ماثور آمدم حیف است گر بدیده نه بینند منظرم رنگم چون گندم است و بمو فرق بین است زانسان که آمد است در اخبار سرورم ایس مقدمم نہ جائے شکوک است والتباس سید جدا کند ز مسیحائے احمرم دو یعنی میں ہی موعود مسیح ہوں اور میں حدیثوں میں بیان شدہ خلیہ کے مطابق آیا ہوں۔حیف ہے کہ اگر لوگ آنکھ رکھتے ہوئے مجھے نہ دیکھیں۔میرا رنگ گندم گوں ہے اور میرے بالوں میں بھی اس شخص کے بالوں سے فرق ہے جس کا ذکر میرے آقا کے اقوال میں آتا ہے۔میرے اس مقام کے متعلق کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کیونکہ سرور کائنات نے مجھے خود سُرخ رنگ والے مسیح ناصری سے جُدا قرار دیا ہے۔“ آیت اللَّه لَعِلمُ لِلسَّاعَةِ پر ایک سرسری نظر اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ایک مختصر سا نوٹ آیت إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ فَلا تَمتَرن بها ( سورۃ زخرف: آیت (62) کے متعلق درج کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اور سب طرف سے اُمید منقطع دیکھ کر بعض اوقات ہمارے مخالف مولوی صاحبان اس آیت سے مسیح ناصری کے قرب قیامت کے زمانے میں نزول کا استدلال کیا کرتے ہیں۔مگر ناظرین ابھی دیکھیں گے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کچھ ہو تو ہومگر یہ آیت ان کے مطلب کے لئے اتنا کام بھی نہیں دیتی۔اوّل تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس آیت کے معنوں پر سب مفسرین کو اتفاق ہے؟ کیا سب لازماً اس سے یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسیح" قرب قیامت میں نازل ہوگا ؟ سنئے اس آیت میں بہت سے مفترین اس طرف گئے ہیں کہ ان کی ضمیر قرآن شریف کی طرف جاتی ہے نہ کہ عیسی کی طرف۔یعنی آیت کے اصل معنی یہ ہیں کہ قرآن شریف میں قیامت کی دلیل موجود ہے