الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 66
۶۶ الحُجَّةُ البَالِغَةُ یہ حدیث صاف اور غیر تاویل طلب الفاظ میں بتا رہی ہے کہ مسیح موعود مسلمانوں میں سے ہی ایک فرد ہو گا جو مسلمانوں کا امام ہوگا جیسا کہ امامُكُم مِنكُم کے الفاظ قطعی طور پر ظاہر کر رہے ہیں۔بے شک آنے والے کو ابن مریم کے نام سے یاد کیا گیا ہے مگر منگم کا لفظ بلند آواز سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ ابن مریم وہ نہیں جو پہلے گذر چکا بلکہ اے مسلمانو یہ تم میں سے ہی ایک شخص ہوگا۔اگر موعود مسیح گزشتہ مسیح ناصری ہی ہے تو منگم کے کیا معنی ہوئے؟ خدا ر ا ٹھنڈے دل سے غور کرو کہ کیا منگم کا لفظ مسیح ناصری کے متعلق ساری امیدوں پر پانی نہیں پھیر دیتا؟ یہ میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ مسیح ابن مریم کے الفاظ استعمال کرنے میں کیا حکمت تھی مگر فی الحال ناظرین اتنا دیکھیں کہ کیا منگم کے لفظ نے اسرائیلی مسیح کی آمد کے عقیدہ کو جڑ سے کاٹ کر نہیں رکھ دیا ؟ میں تعجب اور حیرت کے دریا میں غرق ہو جاتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ لوگ تو بھلائی کو اپنی طرف منسوب کرنے کے اس قدر شائق ہوتے ہیں کہ جس چیز کا ان کو حق نہیں پہنچتا اسے بھی اپنی طرف منسوب کرنے سے نہیں رکتے مگر یہ وہ قوم ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے عطا ہوئی ہے اس کو بھی اپنی طرف منسوب کرنا نہیں چاہتی ! ہمارا آقانبیوں کا سردار خاتم النبیین مخبر دے رہا ہے کہ اے مسلمانو ! تم میں ایک مسیح ظاہر ہوگا جو تمہیں میں سے تمہارا ایک امام ہوگا مگر مسلمان کہتے ہیں کہ بھلا یہ نعمت اس امت کو کہاں نصیب ہوگی۔اس اُمت کی قسمت میں تو مسیح ناصری ہی کا آنا لکھا ہے! میں ناظرین کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ پھر اس حدیث کے الفاظ پر نظر ڈالیں جو یہ ہیں:۔