الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 67
الحجة البالغة كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ دو یعنی کیا ہی اچھا حال ہوگا تمہارا اے مسلما نو جب مسیح ابن مریم تم میں ظاہر ہوگا اور وہ تمہیں میں سے تمہارا امام ہوگا۔“ غور کرو کہ کس طرح نبی کریم اس خیال سے خوش ہورہے ہیں کہ میری اُمت میں سے ایک اتنا عظیم الشان انسان ظاہر ہوگا جو میری امت کی خوش بختی کا علم بردار ہوگا ! انصاف کا مقام ہے کہ اسرائیلی مسیح کے آنے میں اِس اُمت مرحومہ کے لئے کون سی خوشی ہے؟ وہ تو اس امت کے لئے ماتم کا دن ہوگا جبکہ اس کی اصلاح کے لئے کسی بیرونی آدمی کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہمارے آقا افضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اس امت میں سے کسی مصلح کو پیدا نہیں کر سکی۔کیا نبی کریم اس بات پر خوشی منا رہے ہیں کہ جب میری امت میں فساد برپا ہوگا تو میری امت کے اندر کوئی شخص اس قابل نہ ہوگا کہ اصلاح کا کام کر سکے بلکہ خدا کو ضرورت پیش آئے گی کہ اسرائیلی مسیح کو نازل کرے؟ لاحول ولا قوة الا بالله العظيم حدیث میں دونوں مسیحوں کے الگ الگ فوٹو موجود ہیں الغرض مسیح موعود کے متعلق اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کے الفاظ فرما کر نبی کریم صلی ہی ہم نے سارے جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے اور شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی مگر آپ کی شفقت کو دیکھئے کہ باوجود صاف لفظوں میں بتا دینے کے کہ مسیح موعود میری اُمت میں سے ہوگا آپ اس مسئلے پر صرف یہی بات فرما کر خاموش نہیں ہو گئے بلکہ مزید تشریح فرمائی ہے تا مسیح ناصری کے متعلق مسلمانوں کے دلوں سے اس کی دوبارہ آمد کا خیال بالکل نکال دیا جاوے۔آپ فرماتے ہیں: