الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 64 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 64

۶۴ الحُجَّةُ البَالِغَةُ طرف دیکھنے لگ جاتے ہیں۔خدا اس قوم پر رحم کرے۔یہ کہاں آکر گری! قرآن خیر الامم مسلمانوں کو قرار دے رہا ہے مگر مسلمان یہ تو ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی ا یہ تم کے فرمان کے مطابق یہودی بننے کے لئے ہم ہی میں سے مفسد لوگ پیدا ہوں گے مگر جہاں ترقی کا سوال آتا ہے وہاں محمدی مسیح علیہ السلام کو بنی اسرائیل میں سے لانے کے متمنی ہیں ! ہائے افسوس کیا مسلمانوں کے حصے میں فساد ہی رہ گیا ہے اور مصلح باہر سے آئے گا؟ مسیح" ناصری دوبارہ نازل نہیں ہوں گے پھر آیت فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي (سورۃ مائده رکوع ۱۶) جو وفات مسیح کے ثبوت میں اوپر درج کی جاچکی ہے وہ اس مسئلے میں بھی بطور ثبوت پیش کی جاسکتی ہے کیونکہ بفرض محال اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی کے یہ معنی ہیں کہ ” جب تو نے مجھے پورا اُٹھا لیا اور پھر ہم بفرض محال یہ بھی مان لیں کہ اُٹھا لینے سے آسمان ہی کی طرف اُٹھا لینا مراد ہے پھر بھی یہ آیت اس بات پر تو قطعی ثبوت ہے کہ مسیح آسمان سے نازل نہیں ہوگا کیونکہ یہ بہر حال مسلم ہے کہ حضرت عیسی قیامت کے دن اپنی اُمت کے بگڑ جانے کے متعلق اپنی لاعلمی ظاہر کریں گے۔لہذا ثابت ہوا کہ قیامت کے دن سے پہلے وہ اپنی اُمت کو فساد کی حالت میں کبھی نہیں دیکھیں گے یعنی انہیں قیامت سے قبل یہ علم کبھی حاصل نہیں ہوگا کہ میری اُمت نے مجھے معبود بنالیا ہے۔لیکن ہم اوپر بتا آئے ہیں کہ اگر خود مسیح ناصری ہی آخری دنوں میں نازل ہوں گے تو یہ یقینی ہے کہ انہیں اپنی امت کے بگڑ جانے کا علم ہو جائے گا خصوصاً جب کہ مسیح موعود کا بڑا کام ہی کسر صلیب ہے تو اس صورت میں لاعلمی کا اظہار کیسا؟ لہذا یہ بات یقینی ہے کہ اگر بفرض محال مسیح آسمان پر تشریف بھی لے گئے ہیں تو پھر بھی آنے والا مسیح یقیناً اور ہے ، اور سیح ناصری وہیں آسمان پر کسی جگہ فوت ہوکر دفن کر دیئے گئے ہوں گے۔کیونکہ بہر حال ان کا آسمان پر ہونا ان کو موت سے تو نہیں