الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 63 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 63

۶۳ الحُجَّةُ البَالِغَةُ علاوہ اس کے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مِنكُمْ ( یعنی تم میں سے ) کا لفظ رکھ کر سارے جھگڑے کی جڑ کاٹ دی ہے اور صاف طور پر بتا دیا ہے کہ محمدی سلسلہ کے خلفاء مسلمانوں میں سے ہی ہوں گے۔یہ مقام آنکھیں بند کر کے گزر جانے والا نہیں۔ناظرین کرام اچھی طرح غور فرمائیں کہ مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ کے بعد توریت کی خدمت کے لئے خلفاء مبعوث کئے گئے اسی طرح نبی کریم صلی ایام کے بعد قرآن اور اسلام کی خدمت کے لئے بھی خلفاء بھیجے جائیں گے اور یہ خلفاء مسلمانوں میں سے ہی ہوں گے تو اب پھر یہ کس قدر ظلم ہے کہ اپنی ضد پوری کرنے کے لئے محمدی تسلسلہ کا آخری اور سب سے عالی شان خلیفہ بنی اسرائیل میں سے تصور کیا جاوے اور اس طرح خدا کے وعدے کو جو اس نے مِنكُمْ کے لفظ میں کیا ہے رڈی کی طرح پھینک دیا جاوے اور امت محمدیہ کو امت موسویہ کا دست نگر بنایا جائے ؟ جس شخص کے دل میں ذرا بھر بھی ایمان اور غیرت ہو وہ کبھی بھی اس بات کی جرات نہیں کر سکتا کہ خیر امت کو موسی کی امت کا سوالی بنائے۔خدا تو صاف الفاظ میں فرمارہا ہے کہ دیکھو مسلمانو! میں تمہارے اندر اسلام کی خدمت کے لئے جوخلیفے بھیجوں گا وہ تم میں سے ہی ہوں گے لیکن ہمارے مولویوں کے دل میح“ ناصری کی محبت میں ایسے شرک کے مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ خدا کے صریح وعدے کے خلاف خواہ مخواہ اپنی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل کے قدموں پر گر رہے ہیں۔خدا اُن کو اُٹھانا چاہتا ہے اور ان کی عزت قائم کرنا چاہتا ہے اور ان پر انعام کرنا چاہتا ہے مگر وہ اپنی ذلت چاہ رہے ہیں۔خدا کہتا ہے کہ دیکھو میں تم پر انعام کرتا ہوں کہ تمہارے اندر خلفاء تم میں سے ہی بھیجے جائیں گے مگر مسلمان ہیں کہ چھوٹے موٹے خلفاء کی نسبت تو مانتے ہیں کہ اسی اُمت میں سے ہی ہوں گے مگر جب آخری اور عظیم الشان خلیفہ کا سوال آتا ہے تو اس وقت بنی اسرائیل کی