الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 62 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 62

۶۲ الحُجَّةُ البَالِغَةُ اس آیت میں اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے اسی طرح نبی کریم صل الی السلام کے خلفاء بنائے گا جس طرح کہ اس نے موسوی سلسلہ میں بنی اسرائیل سے موسیٰ کے خلیفے بنائے۔اب یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے خلفاء بھیجے جو توریت کی خدمت کرتے تھے اور بنی اسرائیل کو سچائی کے راستوں میں قائم رکھتے تھے۔موسوی خلفاء کا یہ سلسلہ مسیح ناصری کے وجود میں اپنے کمال اور انتہا کو پہنچا۔اور اس کے بعد مسلمانوں کے ساتھ بھی اسی قسم کے خلفاء کے سلسلے کا وعدہ دیا گیا اور ٹھیک جس طرح موسوی سلسلے کا آخری خلیفہ اسرائیلی مسیح “ ہوا اسی طرح یہ الہی فیصلہ تھا کہ آخری ایام میں مسلمانوں میں بھی ایک مسیح بھیجا جاوے گا جو اسلامی سلسلۂ خلفاء کے دائرہ کو پورا کرنے والا اور کمال تک پہنچانے والا ہوگا۔آیت مندرجہ بالا ہمیں بتاتی ہے کہ موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں نمایاں مشابہت ہے جیسا کہ گما کے لفظ سے ظاہر ہے۔اب اگر محمدی سلسلہ کا مسیح موسوی سلسلہ کے مسیح سے الگ کوئی وجود نہیں رکھتا بلکہ وہی ہے جو حضرت موسیٰ کے سلسلہ کے آخر میں ظاہر ہوا تو مشابہت باطل ٹھہرتی ہے کیونکہ مشابہت مغائرت کو چاہتی ہے۔یعنی یہ ضروری ہوتا ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ دو مختلف وجود ہوں۔پس ثابت ہوا کہ محمدی مسیح موسوی مسیح سے الگ شخصیت رکھتا ہے۔اس بات کو اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ گودونوں سلسلوں میں عمومی مشابہت بھی ہونی ضروری ہے مگر ان دونوں کے اول اور آخر میں تو خاص اور واضح مشابہت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اول اور آخر ہی کسی سلسلے کی تعیین اور حد بندی کرنے والے ہوتے ہیں۔جب ہم قرآنی ہدایت کے ماتحت دونوں سلسلوں کے اول یعنی موسی اور آنحضرت ملالہ کی تم کے درمیان مشابہت کو قبول کرتے ہیں تو ان کے آخر میں بھی مشابہت ضرور ماننی پڑے گی۔اور جب مشابہت ہوئی تو مغائرت لازمی طور پر مانی جائے گی۔