الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 45
۴۵ الحُجَّةُ البَالِغَةُ میں ایک شور مچائے رکھا اور اس نے اس وقت تک اپنی تلوار نیام میں نہیں کی جب تک اس نے ان تمام لوگوں کو تلوار کی گھاٹ نہیں اُتار لیا جنہوں نے اس کی بات کا انکار کیا مگر اب خداوند یہ اپنی لاعلمی ظاہر کرتا ہے۔افسوس حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں لوگ اس قدر اندھے ہو گئے ہیں کہ خدا کے ایک عظیم الشان نبی پر الزام لگانے سے بھی نہیں رُکے مگر مرزا صاحب کو سچا ماننا گوارا نہ کیا۔قرآن مجید کیا خوب فرماتا ہے:۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (سوره یین رکوع ۲) یعنی افسوس لوگوں پر کہ وہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹھا ہی کرتے آئے ہیں۔“ آیت زیر بحث توفی کے معنی بھی واضح کر رہی ہے کیونکہ نبی کریم نے اپنے متعلق یہی الفاظ استعمال کئے ہیں کہ فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنِی یعنی جب تو نے مجھے وفات دے دی۔اگر توفی کے معنی وفات دینے کے نہ ہوتے بلکہ اٹھا لینے کے ہوتے جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ اپنے متعلق ہرگز استعمال نہ کرتے کیونکہ آپ تو آسمان کی طرف نہیں اُٹھائے گئے بلکہ دوسرے لوگوں کی طرح زمین پر ہی فوت ہوئے تھے۔اگر مسیح کو خدا فرض کر لیا جاوے تو پھر بھی وہ موت سے نہیں بچتا یہاں تک تو مسیح کا بحیثیت انسان کے ذکر ہوا ہے لیکن چونکہ قرآن مجید ایک ایسی جامع کتاب ہے جو کسی پہلو کو نہیں چھوڑتی اور آج کل دنیا کا ایک بڑا حصہ مسیح" کو خدا مانتا ہے اس لئے اس حیثیت میں بھی قرآن مجید اس کی وفات کا ذکر کرتا ہے تا کہ ہر طرح حجت پوری ہو۔فرماتا ہے: وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ