الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 42 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 42

۴۲ الحُجَّةُ البالغة والی اور ایک نیا دور شروع کرنے والی ہے وہ مسیح کی وفات ہے جیسا کہ مادمت فِيهِمُ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے الفاظ سے ظاہر ہے۔اگر پہلے زمانے کو کاٹنے والی چیز آسمان پر جانا ہوتا تو مسیح" کا یہ جواب بالکل غلط ٹھہرتا ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ اس آیت میں حضرت مسیح “ اپنی وفات کا وقت بھی ہم کو بتاتے ہیں کیونکہ فرماتے ہیں کہ ”میں نے اپنی قوم کو یہی تعلیم دی تھی کہ خدا کی پرستش کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے اور میں جب تک ان کے درمیان رہا ان پر نگران رہا۔جس کے یہ معنی ہیں کہ جب تک میں ان میں رہا میں نے ان کو سیدھے راستے سے بھٹکنے نہیں دیا۔اس طرح گویا مسیح" اپنے متبعین کے گمراہ ہو جانے کے متعلق اپنی لاعلمی ظاہر کرتے ہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ مسیحی لوگ حضرت مسیح کی وفات کے بعد گمراہ ہوئے تھے۔مگر قرآن ہم کو بتا رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی مسیحی لوگ راہ راست چھوڑ بیٹھے تھے اور گمراہ ہو چکے تھے جیسا کہ فرمایا :- لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ ثَالِثُ ثَلقَة (سورة المائده رکوع ۱۰) یعنی ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے۔“ پس ثابت ہوا کہ کم از کم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک سے پہلے پہلے مسیح وفات پاچکا تھا۔خوب غور کرو کہ مسیح کا یہ جواب صاف شہادت دے رہا ہے کہ عیسائی لوگ مسیح کی وفات کے بعد بگڑے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا عیسائی بگڑ چکے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں بگڑے تو خیر مسیح بھی شاید زندہ ہو گا۔لیکن اگر وہ بگڑ چکے ہیں اور ضرور بگڑ چکے ہیں تو پھر اس بات کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں کہ مسیح" فوت ہو چکا ہے۔علاوہ ازیں اگر یہ مان لیا جاوے کہ مسیح اب تک آسمان پر زندہ موجود ہے اور