الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 41 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 41

الحُجَّةُ البَالِغَةُ جی میں ہے لیکن میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔تو بے شک سب نبیوں کا جاننے والا ہے۔میں نے ان کو اس بات کے سوا جس کا تو نے مجھ کو حکم دیا تھا اور کچھ نہیں کہا اور وہ یہ کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا اور تمہارا دونوں کا پروردگار ہے۔اور میں ان پر نگران رہا جب تک کہ میں ان کے درمیان رہا۔لیکن جب اے خدا تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو تو ہی ان کو دیکھنے والا تھا اور تو ہر ایک چیز پر نگران ہے۔“ یہ آیت مسیح علیہ السلام کی وفات پر دلیل کا ایک سورج چڑھا دیتی ہے۔كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمُ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے الفاظ میں مسیح صرف دو زمانوں کا ذکر کرتا ہے جن میں سے وہ یکے بعد دیگرے گزرا۔پہلا زمانہ وہ ہے جب مسیح" اپنے متبعین کے اندرموجود تھا اور دوسرا زمانہ جو پہلے کے ساتھ ملحق اور متصل ہے وہ مسیح کی وفات کا زمانہ ہے۔اب اگر مسیح" واقعی آسمان پر گیا ہوتا تو اس کا جواب یہ ہونا چاہئے تھا کہ :- مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا رَفَعْتَنِي إِلَى السَّمَاءِ حَيًّا دو یعنی میں اپنے متبعین پر نگرانِ حال رہا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے زندہ آسمان کی طرف اُٹھا لیا“۔الخ۔مگر مسیح کا جواب یہ نہیں بلکہ مسیح نے اپنے متبعین کے درمیان رہنے والے زمانے کے بعد دوسرا زمانہ جس کا ذکر کیا ہے وہ صرف اپنی وفات کا زمانہ ہے۔پس ثابت ہوا کہ مسیح آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا بلکہ جس طرح دوسرے انسان فوت ہو چکے ہیں اسی طرح وہ بھی فوت ہو گیا۔آیت زیر بحث ہم کو صاف الفاظ میں بتاتی ہے کہ وہ چیز جو سیح" کے پہلے زمانہ یعنی تبعین کے درمیان رہنے والے زمانے کو کاٹنے