الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 40 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 40

مسیح کا اپنی وفات کے متعلق خود اپنا اقرار الحجة البالغة یہاں تک جو آیات میں نے وفات مسیح کے متعلق لکھی ہیں ان سے بڑی وضاحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ناصری وفات پاچکا ہے اور اس بارے میں خود خدا کی شہادت او پر درج ہو چکی ہے۔دراصل اگر تعصب کی پٹی آنکھوں سے اُتار کر دیکھا جاوے تو مسیح کی وفات کا مسئلہ ایسا صاف ہے کہ کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں مگر جنہوں نے نہیں ماننا وہ نہیں مانتے۔اچھا اب میں مسیح کی خود اپنی وفات کے متعلق شہادت پیش کرتا ہوں۔شاید اگر اللہ تعالیٰ کی گواہی پر پوری تسلی نہ ہوئی ہو تو مسیح کا اپنا بیان ہی کسی گم کردہ راہ کی تشقی کا موجب ہو جاوے قرآن شریف فرماتا ہے:۔وَإِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمّي الْهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللهِ قَالَ سُبْحَنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقِّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ آنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبِّكُمْ = وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شهید ( سورة المائده رکوع ۱۶) ط ج د یعنی خدا ( قیامت کے دن ) کہے گا کہ اے عیسی بیٹے مریم کے کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ تم مجھے اور میری ماں کو دو خدا مان لو اللہ کے سوا۔تو اس پر حضرت عیسی جواب دیں گے پاک ہے تیری ذات مجھے زیبا نہیں کہ کہوں وہ بات جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہے تو تو اسے جانتا ہے۔تو جانتا ہے جو میرے