الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 31 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 31

۳۱ الحُجَّةُ العالقة ہو جاتے رہے۔اگر گزشتہ نبیوں سے کوئی نبی آسمان کی طرف اُٹھایا گیا ہوتا یا مذکورہ دو طریقوں کے سوا کسی اور طریق سے کسی گزشتہ نبی کا گزر جانا واقع ہوا ہوتا تو لازماً اس جگہ اُس صورت کا ذکر ہونا چاہئے تھا یا کم از کم مسیح کی استثنائی صورت ہی بیان کردی جاتی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اس سے ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں خلا کے معنی یا تو طبعی موت سے مرنے کے لئے جاویں گے اور یا قتل کے ذریعے اس جہانِ فانی کو چھوڑ جانے کے لیکن چونکہ مسیح کے متعلق اللہ تعالیٰ کی صاف گواہی موجود ہے کہ مَا قَتَلُوهُ یعنی مسیح کے مخالف اس کے قتل پر قادر نہیں ہوئے اس لئے لامحالہ دوسری صورت ہی تسلیم کرنی ہوگی یعنی یہ ماننا پڑے گا کہ مسیح “ نے موت کے ذریعے سے اس جہان کو چھوڑا ہے۔وھو المراد۔آیت زیر بحث کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین بھی عموماً اس آیت کے ساتھ یہ الفاظ لگا دیتے ہیں کہ :- وَسَيَخْلُوا كَمَا خَلَوْا بِالْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح دنیا کو چھوڑ جائیں گے جس طرح گزشتہ انبیاء بھی موت کے ذریعے یاقتل کے ذریعے دنیا کو چھوڑتے رہے ہیں۔وفات مسیح پر صحابہ کا اجماع اس آیت کے معنی اور بھی زیادہ واضح ہو جاتے ہیں جب ہم اس کو ایک مشہور تاریخی واقعہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں حدیث میں لکھا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو ایسا اتفاق ہوا کہ حضرت عمر ابھی تک آپ سایتم کو زندہ ہی سمجھ رہے تھے اور کہتے تھے کہ آپ پھر واپس آجائیں گے اور کفار اور منافقوں کا قلع قمع