الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 32 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 32

۳۲ الحُجَّةُ البَالِغَةُ کریں گے وہ اپنے اس خیال پر اس قدر جمے ہوئے تھے کہ انہوں نے تلوار کھینچ کر اعلان کرنا شروع کیا کہ جو کوئی بھی نبی کریم کو فوت شدہ کہے گا میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔اس وقت حضرت ابو بکر کھڑے ہوئے اور صحابہ کے سامنے یہی آیت پڑھی که وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُوْلُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ د یعنی محمد توصرف ایک رسول تھے ان سے پہلے جو رسول گزرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔الخ لکھا ہے کہ حضرت عمر پر اس بات کے سننے سے اس قدر غم طاری ہوا کہ وہ زمین پر گر گئے کیونکہ انہوں نے اس وقت محسوس کر لیا جسے وہ اپنے غم کے وقتی جوش میں نہیں محسوس کر رہے تھے کہ ان کا پیارا آقا بھی اللہ کا صرف ایک رسول تھا جس نے گزشتہ انبیاء کی طرح موت کے دروازے سے گزرنا تھا۔( بخاری کتاب المناقب) اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی گزشتہ نبی اس وقت تک زندہ ہوتا تو حضرت ابوبکر کے اس استدلال پر کہ چونکہ پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں اس لئے طبعاً سید نامحمد رسول اللہ کو بھی فوت ہونا چاہئے صحابہ کرام ضرور اعتراض کرتے اور خصوصاً حضرت عمرؓ اور ان کے ہم خیال لوگ جو پہلے ہی سے آنحضرت کو ابھی تک زندہ تصور کر رہے تھے وہ ضرور چلا اٹھتے کہ یہ کیا بات کہہ رہے ہو؟ مگر سب صحابہ نے حضرت ابوبکر کے ساتھ اتفاق کر کے اس استدلال پر مہر لگادی کہ رسول اللہ سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔گویا آنحضرت کے بعد صحابہ کا سب سے پہلا اجماع ( بلکہ حق یہ ہے کہ اسلام کا واحد اجماع ) یہی تھا کہ گزشتہ انبیاء تمام کے تمام فوت ہو چکے ہیں۔غور کا مقام ہے کہ