الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 27 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 27

۲۷ الحجة البالغة شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَدْ أَنزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آيَتِ اللهِ (سوره طلاق رکوع ۲) یعنی اللہ نے تمہاری طرف یاد کرانے والا رسول بھیجا ہے جو تم پر اللہ کی آیات پڑھتا ہے۔“ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ نبی کریم آسمان سے نہیں اترے تھے بلکہ عربوں میں ہی پیدا ہوکر مبعوث کئے گئے تھے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: قَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ رسول تم میں تمہیں میں سے ظاہر کیا ہے۔“ پھر قرآن شریف فرماتا ہے :- وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ( سوره حدید رکوع ۳) یعنی ہم نے لوہا اُتارا ہے جس میں لڑائی کا ساز وسامان ہے اور لوگوں کے لئے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔“ لیجئے لوہا بھی آسمان سے اُتر رہا ہے حالانکہ سب اسے زمین سے ہی کھود کر نکالا جاتا دیکھتے ہیں۔پھر فرمایا :- يُبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَواتِكُمْ (اعراف رکوع ۳) یعنی اے بنی آدم ہم نے تم پر لباس اُتارا ہے جو تمہارے برہنہ پن کو ڈھانپتا ہے۔“