الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 22 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 22

۲۲ الحُجَّةُ البَالِغَةُ ایک شخص کی جگہ دوسرے بے گناہ شخص کو صلیب پر چڑھادیا جاوے۔دوسرے یہ کہ ان الفاظ کے کسی قاعدہ کے ماتحت یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ مسیح کی مثل کوئی اور شخص بنا دیا گیا کیونکہ شُبہ کا لفظ ماضی مجہول کا صیغہ ہے اور اس کی ضمیر واحد غائب مستلتر ہے لے اور اس لفظ کے معنی یہ ہیں کہ مشابہ بنادیا گیا اور یہی معنی ہمارے مخالف بھی قبول کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کون مشابہ بنادیا گیا ہے اور کس کے مشابہ بنا دیا گیا ؟ ہمارے مخالف مولوی صاحبان اس موقع پر ایک بیرونی شخص کو خواہ مخواہ درمیان میں لے آتے ہیں کہ اسے مسیح کے مشابہ بنادیا گیا حالانکہ کسی بیرونی شخص کا اس آیت میں کیا اس کے قریب قریب بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ جو مشابہ بنایا گیا اور جس کے مشابہ بنایا گیا ان دونوں کا آیت کے اندر یا اس کے قریب ذکر ہونا چاہئے کسی کو کوئی اختیار نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی چیز قرآن شریف کے اندر ڈال دے، یہ تو یہودیوں والی تحریف ہو جائے گی۔آیت میں صرف مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے یا اس بات کا ذکر ہے یہود نے دعویٰ کیا کہ مسیح علیہ السلام مقتول و مصلوب ہو گیا ہے۔اب ضروری ہے کہ انہی میں سے کوئی مشابہ بنا اور انہی میں سے کسی کے مشابہ بنا۔اب غور کیجئے کہ آیت کے معنی کیسے صاف ہو گئے۔وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبَّهَ لَهُمْ یعنی یہود نے مسیح علیہ السلام کو مقتول اور مصلوب ہرگز نہیں کیا لیکن مسیح علیہ السلام ان کی نظروں میں مشابه بالمقتول والمصلوب ضرور عربی زبان کے محاورہ کے مطابق یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ مشتہ میں کوئی ضمیر مستتر نہ مانی جاوے بلکہ لھم کو ہی نائب فاعل قرار دیا جاوے۔اس صورت میں وَلكِن شُيْءَ لَهُمْ کے یہ معنی ہوں گے کہ یہود پر معاملہ مشتبہ ہو گیا۔یہ معنی بھی عربی محاورہ کے مطابق بالکل درست اور صحیح ہیں۔